بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

والد اور چچا کی میراث کی تقسیم


سوال

میرے والد صاحب اور چچا نے مل کر ایک پلاٹ خریدا تھا،جس میں دونوں برابر کے شریک تھے،اب چچا اور والد صاحب دونوں کا انتقال ہوگیا ہے،والد صاحب کے ورثاء میں بیوہ(والدہ)،  تین بیٹیاں ہیں ،والدین کا پہلے انتقال ہوگیا تھا،والد کے ایک بھائی اور چار بہنیں تھیں ،ان کا بھی  والد صاحب سے پہلے انتقال ہوگیا تھا،البتہ چچا کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے،پھر بیوہ(والدہ) کا انتقال ہوا،ان کے ورثاء میں تین بیٹیاں اور ایک بھائی ہے ،جو ایران میں ہے۔والدہ کے والدین بھی پہلے انتقال کر گئے تھے،مذکورہ پلاٹ کس طرح تقسیم ہوگا؟ والد صاحب کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ بھی  بتادیں؟کیا والد صاحب کی جائیداد اور ترکہ میں بھتیجوں کا حصہ ہوگا یا نہیں؟

نیز چچا کے حصے کی جائیداد کی تقسیم کا طریقہ بھی بتا دیں؟چچا کے ورثاء میں صرف دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے،والدین اور بیوہ کا پہلے انتقال ہوگیا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے والد صاحب اور چچا نے مل پلاٹ خریدا تھا اور دونوں اس میں برابر کے شریک تھے تو مذکورہ پلاٹ دونوں کے سرمایہ کے تناسب سے ان کے شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگا،نیز سائلہ کے والد کے حصے میں والد کے بھتیجوں کا بھی حصہ ہوگا، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

سائلہ کے والد مرحوم کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ (تجہیزو تکفین کے اخراجات)ادا کرنے کے بعد،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل مال سے ادا کرنے کے  بعد،اور مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی  مال کے تہائی  حصہ میں سے  اسے  نا فذ کرنے کے بعد  باقی تمام ترکہ    منقولہ و غیر  منقولہ کوحصوں ميں تقسيم كر كے ہر ایک بیٹی کو36 حصے،والد مرحوم کے ہر ایک بھتیجے کو 15حصےاور والدہ کے بھائی کو 6حصے ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت:144/24۔۔والد مرحوم

بیوہ(والدہ)بیٹیبیٹیبیٹیبھتیجابھتیجا
3165
183232321515
فوت شدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میت:1/9/3۔۔بیوہ(والدہ)۔۔مافی الید:18 / 2

بیٹیبیٹیبیٹیبھائی
21
2223
4446

یعنی فیصد کے اعتبار سے والد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو25 فیصد،ہر ایک بھتیجے کو10.416 فیصد اور والدہ کے بھائی کو 4.166فیصد ملے گا۔

سائلہ کے چچا کی میراث کیتقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ (تجہیزو تکفین کے اخراجات)ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل مال سے ادا کرنے کے  بعد،اور مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی  مال کے تہائی  حصہ میں سے  اسے  نا فذ کرنے کے بعد  باقی تمام ترکہ    منقولہ و غیر  منقولہ کو 5حصوں میں تقسیم کر کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو2 حصے اور بیٹی کو1حصہ ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت:5۔۔چچا

بیٹابیٹابیٹی
221

یعنی فیصد کے اعتبار سے ہر ایک بیٹے کو 40فیصد اور بیٹی کو20 فیصد ملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100292

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں