بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ولدیت کی جگہ پالنے والے کانام لکھنا


سوال

اگر لے پالک بچہ کے ماں باپ کا پتہ نہ ہو تو اس کو ولدیت میں لیا جا سکتا ہے۔ میرا مطلب ہے کہ اس کی والدیت کے خانہ میں اپنا نام لکھوا سکتا ہوں؟

جواب

ولدیت کی جگہ  غیر والد کا نام لکھنا  شرعا جائز نہیں ہے،اس سے نسب اور تقسیم وراثت کے مسائل میں اشتباہ ہوسکتا ہے،لہذاولدیت کے کالم کے بجائے  سرپرست کے خانہ میں پالنے والے کا  نام لکھا جاسکتا ہے،اور اگر سرپرست کا خانہ نہیں ہے تو مجبوراً سرپرست کی نیت سے نام لکھنے کی گنجائش ہو گی۔

روح المعانی میں ہے:

"ويعلم من الآية أنه لا يجوز إنتساب الشخص إلى غير أبيه وعد ذلك بعضهم من الكبائر لما أخرج الشيخان وأبو داؤد عن سعد بن أبي وقاص أن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم قال : من إدعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه أبيه فالجنة عليه حرام."

(سورۃ الاحزاب،ج21،ص149،ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101524

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں