بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ولد الزنا سے اپنے بچے یا بچی کے نکاح کرنے کا حکم


سوال

زنا سے پیدا ہونے والے بچے یا بچی سے اپنی بچے یا بچی کا شادی کرنا جائز ہے یا ناجائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ولد الزنا سے نکاح کرنا شرعا درست ہے،لیکن ولد الزنا نیک اور شریف لڑکی کا کفو (برابر کا) نہیں لہٰذا لڑکی اگر عاقلہ بالغہ ہے او ر اس کی اجازت سے اس کے اولیاء ولدالزنا کے ساتھ اس کا عقد کریں تو یہ عقد درست ہے۔

اور اگر لڑکی نابالغہ ہے اور اس کے  والد یادادا بچپن میں اس کا نکاح کروادیں تو شرعی طور پرلڑکی کو خیارِ بلوغ (یعنی بلوغت کے بعد اس نکاح کے فسخ کااختیار)حاصل نہیں ہوتا،البتہ اگر باپ دادا  فاسق، فاجر، لالچی ہوں ،اپنے کیے کی پرواہ نہ ہواور معاشرے میں اچھی شہرت کے حامل نہ ہوں اور انہوں نے ایسے مرد سے نکاح کروایا جو لڑکی کا  کفو (ہم پلہ)نہ ہو تو ان صورتوں میں لڑکی کو شرعاً فسخ کااختیار حاصل ہوگا،اسی طرح والد اور دادا کے علاوہ کوئی اور فرد  نکاح کروائے تو بلوغت کے بعد عورت کو اس نکاح کے فسخ کااختیار ہوتاہے۔ان دونوں صورتوں  میں یہ شرط ہے کہ بلوغت یاسمجھ داری کے فوراً بعد لڑکی زبان سے اس نکاح کو فسخ کردے اور اس پر گواہ بھی بنالے۔اور پھر کسی مسلمان جج کی عدالت میں دعویٰ دائر کرکے گواہوں کے ذریعہ مذکورہ نکاح کو فسخ کرادے۔

اگر لڑکا بالغ ہے اور وہ  اپنی رضامندی سے ولد الزنا لڑکی سے نکاح کرتا ہےیا اس کے اولیاء اس کی رضامندی سے اس کا نکاح کراتے ہیں تو شرعا یہ نکاح منعقد ہوجائے گا۔اسی طرح لڑکا اگر نابالغ ہے اور اس کے والد یادادا بچپن میں اس کا نکاح کروادیں تو شرعی طور پرلڑکے کو خیارِ بلوغ (یعنی بلوغت کے بعد اس نکاح کے فسخ کااختیار)حاصل نہیں ہوتا،البتہ اگر باپ دادا  فاسق، فاجر، لالچی ،لاپرواہ ہوں اور معاشرے میں اچھی شہرت کے حامل نہ ہوں اور انہوں نے ایسے لڑکی سے نکاح کروایا جو لڑکے کا  کفو (ہم پلہ)نہ ہو تو ان صورتوں میں لڑکے کو شرعاً فسخ کااختیار حاصل ہوگا،اسی طرح والد اور دادا کے علاوہ کوئی اور فرد  نکاح کروائے تو بلوغت کے بعد لڑکے کو اس نکاح کے فسخ کااختیار ہوگا۔

البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

"(قوله: ولهما خيار الفسخ بالبلوغ في غير الأب والجد بشرط القضاء) أي للصغير والصغيرة إذا بلغا وقد زوجا، أن يفسخا عقد النكاح الصادر من ولي غير أب ولا جد بشرط قضاء القاضي بالفرقة، وهذا عند أبي حنيفة ومحمد رحمهماالله ... بخلاف ما إذا زوجها الأب والجد؛ فإنه لا خيار لهما بعد بلوغهما؛ لأنهما كاملا الرأي وافرا الشفقة فيلزم العقد بمباشرتهما كما إذا باشراه برضاهما بعد البلوغ." 

(کتاب النکاح،باب الاولیاء والاکفاء فی النکاح،ج۳،ص۱۲۸،ط؛دار الکتاب الاسلامی)

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(ولزم النكاح ولو بغبن فاحش) بنقص مهرها وزيادة مهره (أو) زوجها (بغير كفء إن كان الولي) المزوج بنفسه بغبن (أبا أو جدا) وكذا المولى وابن المجنونة (لم يعرف منهما سوء الاختيار) مجانة وفسقا (وإن عرف لا) يصح النكاح اتفاقا وكذا لو كان سكران فزوجها من فاسق، أو شرير، أو فقير، أو ذي حرفة دنية لظهور سوء اختياره فلا تعارضه شفقته المظنونة بحر."

(باب الولی،ج۳،ص۶۶،ط؛سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و سئل شيخ الإسلام عن مجهول النسب: هل هو كفء لامرأة معروفة النسب؟ قال: لا، كذا في المحيط."

 ( كتاب النكاح، الباب الخامس في الأكفاء في النكاح،ج۱،ص۲۹۳، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وعلى هذا فمعنى عدم اعتبار الكفاءة للزوج أن الرجل لو زوج نفسه من امرأة أدنى منه ليس لعصباته حق الاعتراض، بخلاف الزوجة وبخلاف الصغيرين إذا زوجهما غير الأب والجد هذا ما ظهر لي وسنذكر في أول باب الكفاءة ما يؤيده، والله أعلم."

(باب الولی،ج۳،ص۶۸،ط؛سعید)

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"قلت: وأفاد البهنسي أنها لو تزوجته على أنه حر، أو سني، أو قادر على المهر والنفقة فبان بخلافه، أو على أنه فلان بن فلان فإذا هو لقيط، أو ابن زنا كان لها الخيار فليحفظ

(قوله: لها الخيار) أي لعدم الكفاءة. واعترضه بعض مشايخ مشايخنا بأن الخيار للعصبة.قلت: وهو موافق لما ذكره الشارح أول باب الكفاءة من أنها حق الولي لا حق المرأة لكن حققنا هناك أن الكفاءة حقهما،ونقلنا عن الظهيرية: لو انتسب الزوج لها نسبا غير نسبه فإن ظهر دونه وهو ليس بكفء فحق الفسخ ثابت للكل، وإن كان كفؤا فحق الفسخ لها دون الأولياء، وإن كان ما ظهر فوق ما أخبر فلا فسخ لأحد. وعن الثاني أن لها الفسخ لأنها عسى تعجز عن المقام معه وتمامه هناك، لكن ظهر لي الآن أن ثبوت حق الفسخ لها للتغرير لا لعدم الكفاءة بدليل أنه لو ظهر كفؤا يثبت لها حق الفسخ لأنه غرها، ولا يثبت للأولياء لأن التغرير لم يحصل لهم، وحقهم في الكفاءة، وهي موجودة، وعليه فلا يلزم من ثبوت الخيار لها في هذه المسائل ظهوره غير كفء، والله سبحانه أعلم."

(باب العنین،ج۳،ص۵۰۱،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100303

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں