بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

وکیل کا زکوۃ کی رقم سے اپنے کتب خانہ سے منافع کے ساتھ کتابیں خرید کر مستحقین زکوۃ کو دینے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں:

کہ میرے پاس زکوة کا فنڈ آتا ہے جس سے میں طلباء کو کتابیں خرید کر دیتا ہوں باقاعدہ میرا ایک بڑے مکتبے سے لنک ہے، تو اس مرتبہ ذہن میں یہ خیال آیا کہ کچھ اپنے ذاتی پیسوں سے بھی کتابیں خریدوں، کچھ ڈسکاونٹ پر اور آگے منافع سے بھیج دوں، اب مسئلہ یہ ہے کبھی کچھ کتابیں کئی وجوہات کی وجہ سے کم ہوجاتی ہیں یا شارٹ ہو جاتی ہیں تو وہ میں پھر کہیں سے بھی لے لیتا ہوں تو اس مرتبہ بھی کچھ کم ہوئی جو میرے اپنے سرمائے والے اسٹاک میں موجود تھی ، جو مجھے اس میں سے لینی پڑ رہی ہے، تو کیا اس زکوة والے مال سے میں وہی منافع لے سکتا ہوں جو کسی دوسرے پر بیچنے کے لیے مقرر ہے، یا نہیں لے سکتا؟ کیونکہ یعنی میں زکوة دینے کا وکیل ہوں اور پھر اپنے کاروبار میں اس رقم سے منافع لینا میرے لئے درست ہوگا؟ اس سے میری وکالت پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟ اور اگر منافع لینا جائز نہیں ہے اس زکوة والی کتب کا تو اس کی بھی مکمل تفصیل سمجھا دیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس نے زکوۃ  ادا کرنے کے لیے رقم دی ہے، اس کی اجازت کے بغیر آپ کےلیے زکاۃ کی رقم سے اپنے کتب خانہ سے کتابیں منافع کے ساتھ خرید کر مستحقینِ زکوۃ  کو دینا جائز نہیں ہے، البتہ اگر موکل کی طرف سے ایسا کرنے کی  صراحۃً یا دلالۃً  اجازت ہو تو پھر مارکیٹ ریٹ کےمطابق ایسا کرنا درست ہوگا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا اهـ. إلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجية".

(کتاب الزکوۃ، شروط أداء الزكاة، ج:2، ص:227، ط:دارالکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں