بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے درمیان وقفے کی غرض سے حمل ساقط کروانے


سوال

میری ایک بیٹی اڑھائی سال اور دوسری ایک سال کی ہے جبکہ میری زوجہ پھر حاملہ ہو گئی ہے ہمارہ مشورہ ہے کہ ہم تین سال وقفہ کریں گے کیونکہ پہلے دو آپریشن ہو چکے ہیں میری زوجہ صحت مند ہے لیکن ١١ ماہ کی بچی ابھی دودھ پیتی ہےآیا حمل ساقط کرنا  جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں شرعی طور پر دو بچوں کے درمیان وقفہ کے متعلق کوئی تحدید ثابت نہیں ہے، شریعت کی نظر میں اولاد کی کثرت پسندیدہ ہے، اور جسمانی تعلق قائم کرنے کا مقصد بھی یہی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ، (سورۃ البقرۃ، اآیت:187)، اور شرعی عذر کے بغیر موانعِ حمل تدابیر اختیار کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔ البتہ اگر عورت کی صحت متحمل نہ تواولاد میں وقفہ کرنا جائز ہے، اور اس کے لیے معالج کی راہ نمائی سے شرعاً جائز اور مناسب تدبیر  اختیار کی جاسکتی ہے ۔حمل ٹھہرنے کے بعداگر عورت کی صحت متحمل نہ ہو یا بچوں کی پرورش میں خلل پڑتا ہو اور کوئی مسلم دیندار ڈاکٹر کہے تو اسقاط حمل کی گنجائش ہے البتہچار ماہ کے بعد اسقاطِ حمل جائزنہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفةً أو مضغةً أو علقةً لم يخلق له عضو، وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوماً: أربعون نطفةً وأربعون علقةً وأربعون مضغةً، كذا في خزانة المفتين. وهكذا في فتاوى قاضي خان."

      ( کتاب الکراہیۃ، الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات، ج: 5، صفحہ: 356،  ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100649

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں