بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مدرسے کے کام کے لیے ذاتی بائیک استعمال کرنے پر مدرسہ کے پیسوں سے پیٹرول ڈالنے کا حکم


سوال

 ایک مدرسے کا طالب علم ہے اور شعبہ حفظ کا نگران بھی ہے اور اس کے پاس اپناموٹرسائیکل ہے اور مدرسے کے کام کاج کے لیے اپنی بائیک استعمال کرتا ہے، یعنی چندہ ،طالب علم کو ہسپتال لے جانا وغیرہ  تو پوچھنا یہ ہے اس موٹرسائیکل میں پٹرول ڈالنا یا موٹرسائیکل خراب ہوجائے اس کو مدرسے کے پیسوں سے ٹھیک کر وانا کیسا ہے؟اور اگر وہ مدرسے کے کاموں کے لیے استعمال کرنا چاہتاہے تو کس طرح استعمال کرے رہ نمائی فرمائیں

جواب

صورت مسئولہ میں اپنی ذاتی موٹر سائیکل سے مدرسے کا کام کاج کرنے پر اتنا پیٹرول جو عام طور پر لگتا ہے مدرسہ کی انتظامیہ سے اجازت لے کر مدرسے کے پیسوں سے ڈال سکتے ہیں، تاہم خرابی کی صورت میں اپنی ذاتی رقم سے ٹھیک کروانا ہوگا؛ چوں کہ یہ گاڑی مدرسے کے لیے وقف نہیں ہے، اس لیے ٹھیک کروانے کا خرچ بھی اپنی ذاتی رقم سے ادا کرنا ہو گا۔

نیز وقف کی رقم میں بے حد احتیاط  کی ضرورت ہے، اس میں بے احتیاطی اور لاپروائی سے پرہیز ضروری ہے، بہتریہ ہے کہ مدرسے کے فنڈ سے مدرسہ ہی کی موٹر سائیکل لے لی جائے اور اسے مدرسہ کے کام کے لیے مدرسے کی رقم سے پیٹرول ڈالا جائے اور خرابی کی صورت میں بھی مدرسے کے پیسوں سے ٹھیک کروایا جائے اور اسے ذاتی کام کے لیے بالکل استعمال نہ کیاجائے۔  

فتاوی شامی میں ہے:

"قولهم: شرط الواقف ‌كنص ‌الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل، وإلا أثم لا سيما فيما يلزم بتركها تعطيل الكل من النهر."

(کتاب الوقف، ج: ۴، صفحہ: ۴۳۳، ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100335

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں