بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے وکیل کی شرعی حیثیت


سوال

کچھ دن پہلے میرا نکاح مکۃ المکرمہ میں ہواالحمداللہ۔اس بارے میں چندسوالات میرے ذہن میں ہیں میرے والد کےدوست کو میری طرف سے گواہ بننا تھا لیکن کسی وجہ سے وہ نہیں آسکے توپھرمیرے والدمیری طرف سے گواہ بن گئے اورلڑکی کی طرف سے لڑکی کے چاچا گواہ تھے۔کیا والدگواہ بن سکتے ہیں ؟نکاح کے وقت کمرے میں قاضی کے ساتھ دواورسعودی بھی تھے جبکہ میری اورلڑکی کی والد بھی موجودتھیں۔ لڑکی کے والدولی تھےاورلڑکی بھی موجودتھی۔قاضی نے نکاح پڑھادیامیں نے قبول کرتےوقت یہ الفاظ کہے نعم اناموافقایک ہی مرتبہ کہے۔نیت میری قبول کرنے ہی کی تھی۔عربی زبان میں مجھے میں نے قبول کیا کے الفاظ بولنا نہیں آتےتھے۔پھرنکاح کےبعدمیرے،لڑکی اوراس کے والداور ونوں گواہوں کے دستخط لیےگئے۔کیا نکاح صحیح ہے ؟

جواب

1۔ والد گواہ بن سکتاہے۔ 2۔ قبول کرتے وقت نعم کہنا گویا کہ ہاںمیں نے قبول کیا ہی کامعنیٰ ومفہوم ومطلب نکلتاہے۔ بناء برایں ان الفاظ کا معنیٰ کہنے سے نکاح منعقد ہوجائےگا۔ الغرض یہ نکاح صحیح ہے البتہ تجدید کرنے میں کچھ حرج بھی نہیں ،کرلینا بہتر ہےتاکہ ترددوشک دل میں نہ رہے۔


فتوی نمبر : 143101200067

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے