بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جُمادى الأولى 1445ھ 10 دسمبر 2023 ء

دارالافتاء

 

واجب چھوڑنے کے بعد سجدہ سھوہ نہ کیا تو نماز کا حکم


سوال

 (1) نماز  کس طرح ناقص ادا  ہو جانے سے اس کا اعادہ وقت کے بعد واجب نہیں ہوتا؟

(2)اور یہ بھی بتائیے کہ کس طرح نماز فاسد ہو جانے سے اس کا اعادہ وقت کے گزرنے کے بعد بھی واجب ہوتا ہے؟

(3)اور اگر  کوئی شخص نماز   کا اعاده  وقت گزرنے کے بعد کر رہا ہو تو اگر   نماز  پھر سے فاسد ہوگئی ، مثلًا پہلے نماز میں وہ التحیات بھول گیا تھا اور اس نے سجدہ سہو    جان بوجھ کر نہیں  کیا تھا،اور اس نماز كا اعاده كر رها تھا  اس  میں بھی التحیات نہیں پڑھی اورجان بوجھ کر سجدہ سہو بھی نہیں کیا، تو کیا اس وقت بھی نماز کا اعادہ واجب ہوگا؟

جواب

(1)اگر کسی شخص نے نماز پڑھی اور  نماز میں کوئی واجب رہ گیا اور سجدہ سہو بھی نہیں کیا  تو وقت کے اندراس نماز کا اعادہ واجب ہو گا اور اس نماز کا وقت کے گزر جانے کے بعد وجوب ِاعادہ ساقط ہو جائے گا۔

(2) اگر نماز میں فرض بھول کر یا عمداً  چھوڑدیاتو نماز فاسد ہوجائے گی، اسی طرح اگر واجب کوعمداً چھوڑ دیا ،تو  نماز  ناقص  ہوگی اور   نماز کے وقت میں اور وقت گزرنے  کے بعد دونوں صورتوں میں  اعادہ واجب ہوتا ہے۔

(3)صورتِ مسئولہ میں جب التحیات پڑھنا بھول گیا تو  سجدہ  سھوہ واجب ہوگیا  تھا،پھر اس نے قصداًسجدہ سھو چھوڑ دیا،تو  واجب قصداً چھوڑنے سے نماز ناقص ہو گئی، اور اس  نماز کا اعادہ وقت کے اند اور  وقت گزرنے کے بعد دونوں صورتوں میں واجب  تھا،لیکن جب مذکورہ شخص نے قصداً واجب چھوڑ کر واجب الاعادہ والی  نماز  کی اصلاح نہیں  کی، تو  اعادہ اس کے ذمے میں ہی  رہ گیا،اب اس نماز کا اعادہ اس کے ذمے واجب ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولها واجبات) لاتفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا آثما وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب صفة الصلاة، ج: 1، ص: 457،456، ط: سعید)

وفيه أيضاً:

"تعاد وجوب الإعادة في الوقت وبعده... وأما على القول بأنها تكون في الوقت وبعده كما قدمناه عن شرح التحرير وشرح البزدوي، فإنها تكون واجبة في الوقت وبعده أيضا على القول بوجوبها. وأما على القول باستحبابها الذي هو المرجوح تكون مستحبة فيهما، وعليه يحمل ما مر عن القنية عن الترجماني. وأما كونها واجبة في الوقت مندوبة بعده كما فهمه في البحر وتبعه الشارح فلا دليل عليه... قلت: ... يشمل وجوبها في الوقت وبعده: أي بناء على أن الإعادة لا تختص بالوقت."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 64، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي الولوالجية: الأصل في هذا أن المتروك ثلاثة أنواع: فرض وسنة وواجب، ففي الأول أمكنه التدارك بالقضاء يقضي وإلا فسدت صلاته، وفي الثاني لاتفسد؛ لأن قيامها بأركانها وقد وجدت، ولايجبر بسجدتي السهو، وفي الثالث: إن ترك ساهيًا يجبر بسجدتي السهو وإن ترك عامدًا لا، كذا التتارخانية. وظاهر كلام الجم الغفير أنه لايجب السجود في العمد، وإنما تجب الإعادة جبرًا لنقصانه، كذا في البحر الرائق".

(الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج:4، ص:126، ط:دار الفكر بيروت)

ہدایہ میں ہے:

"وهذا يدل على أن ‌سجدة ‌السهو واجبة هو الصحيح لأنها تجب لجبر نقص تمكن في العبادة فتكون واجبة كالدماء في الحج وإذا كان واجبا لا يجب إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن ساهيا هذا هو الأصل وإنما وجب بالزيادة لأنها لا تعرى عن تأخير ركن أو ترك واجب،قال:  ويلزمه إذا ترك فعلا مسنونا " كأنه أراد به فعلا واجبا إلا أنه أراد بتسميته سنة أن وجوبها ثبت بالسنة. قال: " أو ترك قراءة الفاتحة " لأنها واجبة " أو القنوت أو ‌التشهد أو تكبيرات العيدين " لأنها واجبات فإنه عليه الصلاة والسلام واظب عليها من غير تركها مرة وهي أمارة الوجوب ولأنها تضاف إلى جميع الصلاة فدل على أنها من خصائصها وذلك بالوجوب ثم ذكر ‌التشهد يحتمل القعدة الأولى والثانية والقراءة فيهما وكل ذلك واجب وفيها ‌سجدة ‌السهو هو الصحيح "

(هدايه، ج:1، ص:73، ط:دار احياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412100840

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں