بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

وحی غیر متلو اور حدیث قدسی کلام نفسی پر دلالت کرتا ہے؟


سوال

 وحی غیر متلو یعنی حدیث، اللہ کے کلام نفسی پر دال ہے یا نہیں ؟ اگر ہےتو کیوں ہے؟نہیں تو کیوں نہیں ہے؟ حدیث قدسی، کلام نفسی پر دال ہے یا  نہیں؟  

جواب

كلام، متكلم  کی ذات كی صفت ہوتی ہے، لہذا وحی غیر متلو یعنی احادیث مبارکہ بھی  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی صفت ہیں، اس حیثیت سے وہ کلام ِ نفسی پر دلالت نہیں کرتیں، لیکن اگر احادیث مبارکہ کو اپنے ماخذ اور مدلول کے اعتبار سے دیکھا جائے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اللہ تعالی کی جانب سے وحی کی گئی ہیں، تب وہ کلام نفسی پر دال ہوں گی۔

اور  حدیث قدسی  چوں کہ رب تعالی ہی کا کلام ہے،اور وہ ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ قائم ہے،  اس لیے وہ کلامِ نفسی پر دال ہے۔

مناهل العرفان فی علوم القرآن میں ہے: 

"أما الكلام النفسي بالمعنى المصدري فهو تحضير الإنسان في نفسه بقوته المتكلمة الباطنة للكلمات التي لم تبرز إلى الجوارح فيتكلم بكلمات متخيلة يرتبها في الذهن بحيث إذا تلفظ بها بصوت حسي كانت طبق كلماته اللفظية. والكلام النفسي بالمعنى الحاصل بالمصدر: هو تلك الكلمات النفسية والألفاظ الذهنية المترتبة ترتبا ذهنيا منطبقا عليه الترتب الخارجي.ومن الكلام البشري النفسي بنوعيه قوله تعالى: {فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ قال أَنْتُمْ شَرٌّ مَكَاناً} . ومنه الحديث الشريف الذي رواه الطبراني عن أم سلمة أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد سأله رجل فقال" إني لأحدث نفسي بالشيء لو تكلمت به لأحبطت أجري" فقال عليه السلام: "لا يلقى ذلك الكلام إلا مؤمن" فأنت ترى أن النبي سمى ذلك الشيء الذي تحدثت به النفس كلاما مع أنه كلمات ذهنية لم ينطق بها الرجل مخافة أن يحبط بها أجره. وهذا الإطلاق من الرسول يحمل على الحقيقة لأنها الأصل ولا صارف عنها.كذلكم القرآن كلام الله ولله المثل الأعلى قد يطلق ويراد به الكلام النفسي وقد يطلق ويراد به الكلام اللفظي."

(مناهل العرفان،القرآن في الاصطلاح، (1/ 16)، ط/مطبعة عيسى البابي الحلبي وشركاه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201393

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں