بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

وحدت الوجود کے بارے میں درست عقیدہ کیا ہے؟ وحدت الوجود اور وحدت الشہود میں کیا فرق ہے؟ / ابن عربی کے بارے میں علماء دیوبند کا کیا نظریہ ہے؟


سوال

1۔  علمائے دیوبند کا نظریہ وحدت الوجود کیا ہے؟

2۔ نظریہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود میں کیا فرق ہے؟

3۔ شیخ ابن العربی کا نظریہ وحدت الوجود کیا ہے؟

4۔ علمائے دیوبند کی شیح ابن العربی کے بارے میں کیا رائے  ہے ؟

جواب

1۔وحدت الوجود کے معنی یہ ہیں کہ وجود حقیقی باری تعالی کی ذات کو حاصل ہے، جبکہ دیگر تمام موجودات کا وجود عارضی ہے، اور وجود حقیقی کے مقابل میں دیگر موجودات کا وجود کالعدم ہے، یہ عین توحید ہے، اور ایسا عقیدہ رکھنا درست ہے۔

البتہ  وحدت الوجود بایں معنی  کہ باری تعالی کا وجود تمام موجودات میں حلول کر گیا ہے، جس کے سبب ہر موجود میں باری تعالی موجود ہے، باطل ہے، اور ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔

باقیات فتاوی رشیدیہ میں ہے:

" مسئلہ وحدت الوجود:  یہ بات ثابت ہے  کہ وجود حقیقی ذات پاک حق تعالیٰ ہی  کے واسطے ہے،  اور باقی  جملہ موجودات فانیہ موجود بوجود ظلی ہیں،  اور ظلی بہ نسبت حقیقی کے کالعدم ہوتا ہے،  بس مطلب " ہمہ اوست " کا یہ ہوا کہ جملہ موجود حقیقی واصلی وہ ذات پاک باقی ہے اور باقی جملہ موجودات معدوم و فانی  ہیں۔  یہ عین توحید ہے اور حق ہے ۔

نہ یہ  مطلب ہے کہ جملہ موجودات  موجودات  ظلیہ کواصلیہ حقیقیہ اعتقاد کرکے سب موجودات عدمیہ، فانیہ  کو ،  موجود حقیقی و عین  ذات حق تعالی قرار دیں،  معاذاللہ!  یہ سخت شرک ہے،  مطلب  اول و ثانی میں فرق زمین و آسمان کا ہے اول مراد عارفین ہے اور ثانی  ملحدین جاہلین۔"

  ( باقیات فتاوی رشیدیہ، سلوک و احسان،( ۸۱۵)  مسئلہ وحدة الوجود کی تحقیق، ص: ۴۲۳،ط: دار الکتاب)

فتاوی عزیزی میں ہے:

"این کلام خلاف شرع است، اگر گویند این کلام حلول حق تعالی را در اشیاء بآن ذات مقدس اعتقاد می نماید، پس کفر است۔"

( ص: ۴۱، ط: کتب خانہ رحیمیہ دیوبند)

حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے نظریہ  وحدت الوجود کے بارے میں اپنی تصنیف " شریعت اور طریقت میں لکھا ہے:

" وحدت الوجود

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

قال الله تعالى يوذيني ابن آدم يسب الدهر، وانا الدهر بيدي الأمر، أقلب الليل والنهار. "(اخرجه الثلاثة و ابو داود) 

حق تعالی ارشاد فرماتے  ہیں مجھ کو آزر دہ کرتا ہے کہ زمانہ کو برا کہتا ہے، حالانکہ زمانہ میں ہوں ( آگے اس کی تفسیر آرہی ہے کہ ) میرے ہی قبضے میں سب کام ہیں جو کہ زمانہ میں واقع ہوتے ہیں ۔ 

رات اور دن کو ( کہ زمانہ کے حصے ہیں ) میں ادل بدل کرتا ہوں ۔ ( جس کی طرف آدمی واقعات کو منسوب کرتا ہے ۔ سو زمانہ تو مع مافیہ کے خود میرے قبضہ میں ہے ۔ پس یہ سب تصرفات میرے ہی ہیں تو اس کو برا کہنے سے درحقیقت مجھ کو برا کہنا لازم آتا ہے۔  (روایت کیا اس کو بخاری و مسلم و مالک و ابو داود نے ) 

ظاہر ہے کہ حق تعالی اور زمانہ دونوں متحد نہیں ہیں ، مگر باوجود عدم اتحاد کے ایک تاویل سے جس کی تقریر بضمن ترجمہ کی گئی ہے لفظ اتحاد کا حکم کیا ہے ۔

محققین کے نزدیک اسی تاویل سے اوست کا حکم ہمہ پر کیا گیا ہے ۔ جس کی تقریر یہ ہے کہ ہمہ کا جو مصداق ہے وہ سب مع اپنے افعال و آثار قبضہ حق میں ہے ۔ پس متصرف حقیقی و موجود مستقل صرف حق تعالی ہے ہمہ کوئی چیز نہیں ۔ پس حدیث سے اس قول صوفیہ کی تائید ظاہر ہے ۔

کل ممکنات تو موجود ظاہری ہیں اور حقیقت میں کوئی موجود حقیقی یعنی موصوف بکمال ہستی نہیں بجز   ذات حق کے ۔

اسی مضمون کو ہمہ اوست سے تعبیر کردیتے ہیں ۔ مطابق محاورات روز مرہ کے یہ ایک جملہ ہے ۔ جس طرح  کوئی حاکم کسی فریاد خواہ سے کہے کہ تم نے پولیس میں رپٹ لکھوائی ؟ تم نے کسی وکیل سے بھی مشورہ کیا ؟ اور وہ عرض کرے کہ جناب پولیس اور وکیل سب آپ ہی ہیں ۔ ظاہر ہے اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہوتا کہ حاکم اور پولیس اور وکیل سب ایک ہی ہیں ان مین کچھ فرق نہیں ، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ پولیس اور وکیل کوئی  چیز  قابل شمار نہیں ، آپ ہی صاحب اختیار ہیں۔ اسی طرح یہاں سمجھ لینا چاہیے کہ ہمہ اوست کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہمہ اور او ایک ہیں ۔ بلکہ مقصود یہ ہے کہ ہمہ کی ہستی قابل اعتبار نہیں ، صرف او کی ہستی لائق شمار ہے ۔ اور باقی جتنے موجودات ہیں ہستی تو ان کی بھی واقعی ہے مگر ان کی ہستی کامل کے سامنے محض ایک ظاہری ہستی ہے حقیقی یعنی کامل نہیں ۔

تفصیل اس کی یہ ہے کہ ہر صفت میں دو مرتبے   ہوتے ہیں :

ایک کامل ایک ناقص ۔ اور یہ قاعدہ ہے کہ کامل روبرو ناقص ہمیشہ کالعدم سمجھا جاتا ہے۔  اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی ادنی درجہ کا حاکم اپنے اجلاس میں  شان حکومت  دکھلارہا تھا  پندارے منصب کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا کہ ناگہاں بادشاہ وقت برسر اجلاس بطریق دورہ آپہنچا ۔ اس کے دیکھتے ہی ہوش اڑگئے اور پندار و دعوی و نشہ و غرور ہرن ہوگیا ۔ اب جو اپنے اختیارات کو اقتدار شاہی کے روبرو دیکھتا ہے تو اس کا کہیں  نام و نشان نہیں  پاتا ، نیچے کو گڑا جاتا ہے ، نا آواز نکلتی ، نہ  سر  اوپر اٹھتا ہے ۔اس وقت اس کا منصب و عہدہ معدوم نہیں ہوا مگر کالعدم ضرور ہے۔

پس اسی طرح سمجھنا چاہیئے کہ گو ممکنات موجود ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے ان کو وجود دیا ہے۔ موجود کیوں نہ ہوتے۔ مگر وجود حق کے روبرو ان کا وجود  نہایت ناقص و ضعیف و حقیر ہے۔ اس لئے وجود ممکن کو وجود حق کے روبرو گو عدم نہ کہیں گے مگر کالعدم ضرور کہیں گے۔ جب یہ کالعدم ہوا تو وجود معتد بہ ایک ہی رہ گیا۔ یہی معنی وحدت الوجود کے ہیں۔ کیونکہ اس کا لفظی ترجمہ ہے: وجود کا ایک ہونا۔ سو ایک ہونے کے معنی یہ ہیں کہ گو دوسرا ہے سہی مگر ایسا ہے  جیسا نہیں  ہے۔ اس کو مبالغةً وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔ حضرت حق کو مثل زندہ کے سمجھو اور ممکن کو مثل مردہ کے کہ گو نعش مردہ بھی کسی درجہ  کا وجود رکھتی ہے آخر جسم تو ہے۔ مگر زندہ کے روبرو  اس کی ہستی قابل اعتبار نہیں، کیونکہ مردہ  کی ہستی ناقص ہے  اور زندہ کی ہستی کامل۔ کامل کے سامنے ناقص بالکل مضمحل اور ناچیز محض ہے۔

اس مسئلہ کو مرتبہ تحقیق علمی میں توحید کہتے ہیں، جس کی تحصیل کوئی کمال  نہیں۔ اور جب یہ سالک کا حال بن  جائے تو اس مرتبہ میں فنا کہلاتا ہے۔ یہ البتہ مطلوب  و مقصود ہے اور یہی حاصل وحدت الشہود کا ہے۔ جس کی دلالت اس معنی پر بہت ہی ظاہر  ہے۔ کیونکہ اس کا ترجمہ ہے: ایک ہونا شہود کا یعنی واقع میں  تو ہستی متعدد ہے۔ مگر سالک کو ایک ہی کا مشاہدہ ہوتا ہے اور سب کالعدم معلوم ہوتے ہیں ۔ جیسا اوپر کی مثالوں سے واضح ہوچکا ہے۔ ایک اور مثال سب سے واضح تر شیخ سعدی رحمہ اللہ نے بیان فرمائی ہے۔

مگر  دیدہ باشی کی در باغ باغ

 بتابد بشب کرمک چوں چراغ

 یکے گفتش اے مرغک شب فروز

 چہ بودت کہ بیروں نیائی بروز

 ببیں کا تشیں کرمک خاک زاد

 جواب از سر رو شنائی چہ داد

 کہ من روز وشب جز بصحرا نیم

 ولے پیش خورشید پیدا نیم

یعنی جگنو جو رات کو مانند چراغ کے چمکتا ہے، اس سے کسی نے کہا کہ تو دن میں باہر کیوں نہیں نکلتا؟  تو اس نے بہت ہی اچھا جواب دیا کہ میں رات دن جنگل میں ہی ہوتا ہوں۔لیکن سورج کی روشنی کے سامنے میری روشنی ظاہر نہیں ہوتی۔

پس وحدة الوجود اور وحدة الشہود میں اختلافِ لفظی ہے  کما قال مرشدی رحمہ اللہ۔مگر چونکہ وحدة الوجود کے معنی عوام میں غلط مشہور ہوگئے تھے، اس لئے بعض محققین نے اس کا عنوان بدل دیا،جو بہ نسبت عنوان متروک کے اس معنی میں زیادہ ظاہر ہے۔کیوں کہ لفظ وحدة الوجود کی دلالت معنی مذکور پر مجازی ہے اور وحدۃ الشہود کی دلالت اس معنی پر حقیقی ہے اور دلیلِ نقلی اس مسئلہ کی یہ ہوسکتی ہے: (كُلُّ شَىْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَه)  جیسا شارح عقائد نسفی نے   تفسیر کی ہے۔

ظاہر ہے کہ تمام کمالات حقیقۃً  اللہ تعالی کے لئے ثابت ہیں اور مخلوقات کے کمالات عارضی طور  پر ہیں کہ اللہ تعالی کی عطا و  حفاظت کے سبب  ان میں موجود ہیں۔ایسے وجود کو اصطلاح میں وجودِ ظلی کہتے ہیں اور ظل کے معنی سایہ کے ہیں۔ سو سائے سے یہ  نا سمجھ جائیں کہ اللہ تعالی کوئی جسم ہے یہ عالم اس کا سایہ ہے، بلکہ سایہ کے معنی وہ سایہ ہے جیسے کہا کرتے ہیں:ہم آپ کے زیر سایہ رہتے  ہیں، یعنی آپ کی حمایت اور پناہ میں، اور  ہمارا  امن و عافیت آپ کی توجہ کے بدولت ہے۔ اسی طرح چوں کہ ہمارا وجود بدولت عنایتِ خداوندی ہے، اس لئے اس کو وجودِ ظلی کہتے ہیں۔پس یہ بات یقینا ثابت ہوئی کہ۔ممکنات کا وجود حقیقی اور اصلی نہیں ہے،عارضی اور ظلی ہے۔ اب وجود ظلی کا اگر اعتبار نہ کیا جائے تو صرف وجود حقیقی کا ثبوت ہوگا اور وجود کو واحد کہا جاوے گا،یہ وحدۃ الوجود ہے۔اور اگر اسکا بھی اعتبار کیجئے کہ آخر کچھ تو ہے،بالکل معدوم تو ہے ہی نہیں۔گو غلبئہ نورِ حقیقی سے کسی مقام پر سالک کو وہ نظر نہ آوے،یہ وحدۃ الشہود ہے۔اس کی ایسی مثال ہے کہ نورِ ماہتاب نورِ آفتاب سے حاصل ہے۔اگر اس نور ظلی کا اعتبار نا کیجئے تو صرف آفتاب کو منور،ماہتاب کو تاریک کہا جاوے گا۔یہ مثال وحدة الوجود کی ہے۔اور اگر اس نور کا اعتبار کیجئے کہ آخر اس کے کچھ آثار خاصہ ہیں، گو وقت ظہورِ نورِ آفتاب کے وہ بالکل مسلوب النور ہوجاوے۔ یہ مثال وحدۃ الشہود کی ہے۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ حقیقت میں یہ اختلاف لفظی ہے۔ مآل کار دونوں کا ایک ہے۔اور چوں کہ اصل اور ظل میں نہایت قوی تعلق ہوتا ہے اس کو اصطلاح صوفیہ میں عینیت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور عینیت کے یہ معنی نہیں  کہ دونوں ایک ہوگئے، یہ تو صریح کفر ہے۔ چناں چہ وہی صوفیہ محققین اس عینیت کے ساتھ غیریت کے بھی قائل ہیں۔ پس یہ عینیت اصطلاحی ہے نہ لغوی۔مسئلے کی تحقیق تو اسی قدر ہے،اس سے زیادہ اگر کسی کے کلام میں منثور یا منظوم میں پایا جاوے وہ کلام حالت سکر کا ہے، نہ قابل ملامت ہے نہ لائق نقل و تقلید۔

مسئلہ وحدۃ الوجود و وحدۃ الشہود مسائلِ کشفیہ سے ہیں، کسی نص کے مدلول نہیں۔ایسے مسائل کے لئے یہی غنیمت ہے کہ وہ کسی نص سے متصادم نہ  ہوں،یعنی کوئی نص ان کی نافی نہ ہو۔باقی  اس کی کوشش کرنا کہ نص کو ان کا مثبت بنایا جائے،اس میں تفصیل ہے:

وہ یہ کہ اگر نص اس کی محتمل ہو تو درجہءِ احتمال تک اس کا رکھنا غلو تو نہیں مگر تکلف ہے اور اس کو درجہ احتمال سے بڑھا دینا غلو ہے۔اور اگر وہ محتمل بھی نہ ہو تو اس کا دعوی کرنا احتمالاً یا جزماً صریح تحریف ہے نص  کی۔ البتہ اگر وہ دعوی بطور تفسیر یا تاویل کے نہ ہو، محض بطور علم اعتبار کے ہو تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ وہ حکم اگر کسی اور نص سے ثابت ہو تب تو وہ اعتبار داخلِ حدود ہے اور اگر وہ کسی اور نص سے ثابت نہ ہو تو وہ بھی تکلف ہے۔

 ضروری وصیت:

اول تو تمام مسائل کلامیہ میں عموما اور ان میں سے ان مباحث میں جن کا تعلق ذات و صفات سے ہے خصوصا بدوں قطعی عقلی یا نقلی کے محض ظنیات کی بنا پر کشف سب سے انزل ہے، کوئی حکم کرنا، خصوص حکم جازم کرنا۔بلکہ بلا ضرورت کچھ بھی گفتگو کرنا، سخت محل خطر و خلاف مسلک سلف صالحین ہے۔ اور جن بزرگوں نے کچھ کلام کیا ہے۔ ان میں اکثر کی غرض محض اہل اہوا کا دفع تھا۔(جیسا حضرت مجدد رحمہ اللہ نے بغرض اصلاح غلاۃ وجودیہ اس میں کلام فرمایا) گو بعض نے اس کو مقصود بنالیا۔ جو کہ خلاف احتیاط ہے اسلم ایسے مسائل میں یہی ہے کہ نصوص سے تجاوز نہ کریں۔اور سلف کے مسلک پر اور ان کے اس ارشاد پر کہ (أبهموا ما أبهمه الله تعالى)عمل رکھیں۔

اور اگر کوئی حقیقت زائدہ علی النص کسی دلیل ظنی سے کہ کشف بھی اس میں داخل ہے منکشف ہو، اور کسی دلیل عقلی قطعی اور نیز کسی نص قطعی یا ظنی کے مخالف بھی نہ ہو تو اس میں بھی خوض نہ کریں، دونوں جانب کو محتمل سمجھتے  رہیں۔ چوں کہ یہ مسئلہ متکلم فیہا بھی ان ہی مسائل سے ہے جن کا تعلق ذات و صفات سے ہے۔ کیوں کہ حاصل اس کا ارتباط الحادث بالقدیم ہے، اس لئے اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ رکھیں۔ اور اجمالا یہ اعتقاد تو جزم کے ساتھ رکھیں   کہ عالم پہلے ناپید تھا۔ اللہ تعالی نے اس کو اپنے علم و قدرت و ارادہ سے پیدا فرمایا۔ باقی یہ کہ کس طرح پیدا فرمایا اس میں نہ خوض کریں نہ کلام کریں۔ جیسے مسئلہ قدر میں احادیث میں بھی تعلیم منصوص ہے اجمال کے درجہ میں اس کے اعتقاد کو فرض اور شرط ایمان فرمایا اور تفصیل کے درجہ میں خوض یا کلام کو منع فرمایا ہے۔"

( شریعت و طریقت، بعنوان وحدت الوجود، ص: ٢٨٨ - ٢٩٣، ط: بشری)

الفتاوی الحدیثیہ میں ہے:

"(وسئل) نفع الله به ما معنى توحيد الصوفية الموهم للحلول والاتحاد الموجب لكثير من الفقهاء الاعتراض عليهم بذلك وتشديد النكير عليهم في جميع تلك المسالك حتى بالغ كثير منهم بالتكفير حقيقة أو للتنفير (فأجاب) بقوله اعلم وفقني الله وإياك لمرضاته وأدخلنا تحت حيطة الصفوة من أوليائه ليتجلى علينا عرائس هباته أن توحيد الله تعالى باللسان العلمي المقرر في كتب أئمة الكلام القول فيه مشهور عند من مارس ذلك الفن وأطلع على دقائقه وأحاط بما فيه من العويصات والشبه والإيرادات وأجوبتها ومن ثم كان هذا العلم في الحقيقة أشرف العلوم إذ هي تشرف بشرف معلومها وأفضلها إذ معرفة الله تعالى والنظر المؤدي إليها هما أول الواجبات العينية وأساس جميع الفروض وغيرها وسائر أصول الشريعة وفروعها وأما التوحيد بالأحوال الشهودية والمواجيد العرفانية فهو حال أئمة التصوف الذين أتحفهم الله بما لم يتحف به أحد سواهم لأن أهل ذلك العلم ليس لهم من الحضور مع الحق وآثار شهود صفاته وحقائق تجلياته في جميع أحوالهم وأقوالهم وأفعالهم ما لأئمة الصوف الغارقين في بحار شهود التوحيد الواقفين مع الله تعالى على قدم الصدق والتجريد والمتخلين عما سواه على غاية الكمال والتفريد فتوحيدهم هو الذي عليه المعول وحالهم هو الحال الأكمل الذي ليس لهم عنه محول بل هم دائما في ظله الظليل لا براح لهم عن الحضرة الشهودية ولا شاغل لهم عن استجلاء الحقائق الوجود ليتعرفوا بها حكم الأقضية وحقائق القدرة وآثار صفات الجلال والجمال ومن ثم قال بعض محققيهم فارقا بينهم وبين علماء الكلام أولئك قوم اشتغلوا بالاسم عن المسمى ونحن قوم اشتغلنا بالمسمى عن الاسم ولذلك تجد أولئك لا شهود لهم ولا استحضار بل قلوبهم مملوءة بشهود الأغيار مستغرقة في الشهوات وإن فرض أن لهم استحضارا فهو مقصور على حالة استحضار شيء من علمهم على أن هذا للنادر منهم وأما أكثرهم فهم لا يستحضرون إلا الألفاظ ومعانيها فحسب دون أمر زائد على ذلك وقد شرحوا محققوا الصوفية توحيدهم الذي اختصوا به بعبارات مختلفة هي في الحقيقة مؤتلفة من أحسنها قول إمام العلوم الظاهرة والباطنة المجمع على جلالته وأمامته في الطريقين أبي القاسم القشيري قدس الله سره وروحه ونور ضريحه فارقا بين توحيد الصوفية وتوحيد غيرهم توحيد العبد لربه على مراتب توحيد له بالقول والوصف بأن يخبر عن وحدانيته وتوحيد له بالعلم وهو أن يعلمه بالبرهان على وحدانيته وتوحيد له بالمعرفة وهو أن يعرفه بالبيان كما علمه بالبرهان والبيان أجلى من البرهان ففي حال معرفته بالبيان لا يفتقر إلى نظره ولا إلى تذكر نظره وليس بضروري علمه ولكنه كالضروري في أنه أقوى حالا مما كان وقد تسمى هذه الحالة الإلهام وإنما يصح ذلك إذا ترقى إلى هذه الصفة عن العلم البرهاني بقوة الحال ثم توحيد من حيث الحال يشهده واحد أو حال الشهود ليس له الرؤية ولكنه كالرؤية كما قال - صلى الله عليه وسلم - اعبد الله كأنك تراه وهذه هي حالة المشاهدة التي أشار إليها القوم بتوالي التجلي على قلبه فصار كالعيان حاله ومن أهل التوحيد من يشهد له الحادثات بجملتها بالله تعالى بظهورها فيشهدها به سبحانه تجري عليها أحكامه وتظهر فيها أفعاله ومن أهل التوحيد من يوجد من حيث التنزيه فهؤلاء قالوا الحق وراء ما أدركه الخلق بأفواههم وأحاطوا به بعلومهم وأشرفوا عليه بمعارفهم

قالوا وكل من كوشف بشيء فعلى قدر قوته وضعفه قالوا والقوم الذين كوشفوا بالحقيقة أو شاهدوا الحق واحتفظوا بشواهدهم عن شهود الحق أو استمسكوا في عين الجمع أو ليس يشهدون إلا الحق أو ليس يخشون إلا الحق أو هم محوا في حق الحق أو مصطلون فيه بسلطان الحقيقة أو تجلى لهم الحق بجلال الحق وغير هذا إلى آخر ما عبر عنه معبر أو أخبر عنه مخبر أو أشار إليه مشير أو أدركه فهم أو انتهى إليه علم أو حضره بالتفصيل ذكر فهم شواهد الحق وهو حق من الحق ولكنه ليس بحقيقة الحق فإن الحق منزه عن الإدراك والإحاطة والإشراق قالوا وكلما يدل على خلق أو جار على الخلق فذاك مما يليق بالخلق والحق مقدس عن جميع ذلك انتهى حاصل كلام القشيري وهو لاسيما آخره أوضح عاضد وأقوى شاهد على حقيقة توحيد القوم السالمين من المحذور واللوم وعلى أنه الغاية القصوى في التوحيد والحقيقة العليا في المعرفة والتنزيه والتمجيد فشرفهم بذلك وإياك أن تقع في ورطة الاعتراض عليهم فتتسابق أسهم القواطع إليك فإنهم برآء من ذلك منزهون عنه إذ هم أكمل الخلق عقلا ومعرفة فكيف يتوهمون ما هو بديهي البطلان وبيان ذلك أن الاتحاد بعدما قام من البراهين المقررة في كتب الحكمة والكلام على امتناع اتحاد الاثنين هو يستلزم كون الواجب هو الممكن وعكسه وذلك محال بالضرورة وأما الحلول فلوجوه الأول أن الحال في الشيء يفتقر إليه في الجملة سواء كان حلول جسم في مكان أو عرض في جوهر أو صورة في مادة كما هو رأي الحكماء أو صفة في موصوف والافتقار إلى الغير ينافي الوجوب ومن ذلك حلول الامتزاج كالماء في الورد فإنه من خواص الأجسام وهي مفتقرة إلى الغير الثاني أن الحلول في الغير أن لم يكن صفة كمال وجب نفيه عن الواجب وإلا لزم كون الواجب مستكملا بالغير وهو باطل الثالث لو حل في جسم على ما زعم بعض الملحدين الذين لا عقول لهم ولا دين فأما أن يحل في جميع أجزائه فيلزم الانقسام أو في جزء منه فيكون أصغر الأشياء وكلاهما باطل بالضرورة والاعتراف والأدلة على ذلك كثيرة محل بسطها كتب الكلام وإذا بان واتضح بطلان الحلول والاتحاد وامتناعها على الذات فكذا على الصفات لاستحالة انتقال صفة الذات المختصة بها إلى غيرها فرأس القائلين بها النصارى وبعض المنتسبين إلى الإسلام كغلاة الشيعة قالوا لا يمتنع ظهور الروحاني في الجسماني كجبريل في صورة دحية وكالجني في صورة إنسي وحينئذ فلا يبعد أن يظهر الله سبحانه وتعالى عما يقول الظالمون والجاحدون علوا كبيرا في صورة بعض الكاملين وأولى الناس بذلك علي وأولاده الذين هم خير البرية رضي الله عنهم وأطالوا في هذه النزهات البديهية البطلان لكن لفساد عقولهم حتى صاروا كالأنعام بل هو أضل سبيلا راجت عليهم حتى حسبوا أنهم على حق فزلوا وأزلوا وضلوا وأضلوا وكفرتهم يزعمون أنهم من عداد الصوفية وليسوا كما زعموا بل هم من عداد الحمقاء الذين لا يدرون ما يقولون ولا يعون ما يزعمون فهم أضل من الحيوان وأحمق من الفراش التي ترمي نفسها إلى النيران ومن جملة خرافاتهم وكذبهم وجهالاتهم قولهم أن السالك إذا أمعن في سلوكه وخاض لجة الوصول يحل الله سبحانه وتقدس عن مرية المفترين فيه كما تحل النار في الجمر بحيث لا يتمايز أو يتحد بحيث لا اثنينية ولا تغاير وصح أن يقول هو أنا وأنا هو وحينئذ يرتفع الأمر والنهي ويظهر من الغرائب والعجائب ما لا يصح أن يكون من البشر وفساد هذا كالذي قبله غنى عن الإيضاح والبيان فذكره استطراد وإنما الذي ينبغي أن يعتني بتحقيقه وتحريره وحفظه وتقريره هو أن ما وقع في كلمات بعض المتقدمين والمتأخرين من أئمة الصوفية مما يوهم حلولا واتحادا ليس مرادهم ذلك بالنسبة لأحوالهم واصطلاحهم ومن ثم قال العلامة المحقق زمام المتأخرين في العلوم الحكمية والنقلية السعد التفتازاني أن السالك إذا انتهى سلوكه إلى الله تعالى أي إلى مرتبة من قربه وشهوده وفي الله تعالى أي وفي بلوغ رضاه وما يؤمله من حضرته العلية يستغرق في بحار التوحيد والعرفان بحيث تضمحل أي باعتبار الشهود لا الحقيقة ذاته في ذاته وصفاته في صفاته ويغيب عن كل ما سواه ولا يرى في الوجود إلا الله تعالى قال وهذا هو الذي يسمونه الفناء في التوحيد وإليه يشير الحديث الإلهي لا يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه فإذا أحببته كنت سمعه يسمع به وبصره الذي يبصر به ويده التي يبطش بها الحديث وحينئذ ربما يصدر

عن الولي عبارات تشعر بالحلول أو الاتحاد لقصور العبارة عن بيان تلك الحال وبعد الكشف عنها بالمثال قال ونحن على ساحل التمني نغترف من بحر التوحيد بقدر الإمكان ونعترف أن طريق الفناء فيه العيان دون البرهان قال وهنا مذهب ثان يوهم ذلك وليس منه أيضا وهو أن الواجب هو الوجود المطلق وهو واحدة لا كثرة فيه أصلا وإنما الكثرة في الإضافات والتعينات التي هي بمنزلة الخيال والسراب إذ الكل في الحقيقة واحد يتكرر على مظاهر لا بطريق المخالطة ويتكثر في البواطن لا بطريق الانقسام فلا حلول هنا ولا اتحاد لعدم الاثنينية والغيرية انتهى كلام السعد رحمه الله تعالى وبه يعلم أن ما يقع من كلمات القوم لا سيما ابن عربي وابن الفارض وأتباعهما رحمهم الله تعالى ونفع بهم في حضرات التوحيد منزل على ما ذكره السعد رحمه الله ولبعض أئمة المتأخرين من تلامذة مولانا عبد الرحمن الجامي المشهور في كتابه الذي سماه المتمم به ما كنى به عن نسخة النفحات وهو مولانا علاء الدين محمد بن المؤمن الإبيبزي بتحتانية ممدودة وكسر باء موحدة تحتانية وزاي من أجل تلامذة مولانا سعد الدين الكازورى من أجل أساتذة الطريقة العلية السالمة من كدورات جهلة الصوفية وهي طريقة النقشبندية أنه قال في الريحانة الثانية منه ريحانة ذكر الاباه معنى لا إله إلا الله أن الذكر ثلاث مراقب في السلوك ففي الأولى يقدر لا معبود إلا الله وفي الثانية التي هي مرتبة السير إلى الله يقدر لا مقصود إلا الله وفي المرتبة الثالثة وهي السير في الله وهي مقام المنتهين يقدر لا موجود إلا الله فهو ما لم ينته السالك في السير في الله وذكر لا موجود إلا الله فهو كفر صريح أي ربما أدى إليه كما لا يخفى فأطلقه مبالغة في الزجر والتنفير لمن يدعى هذه المرتبة بالباطل فتأمله ووفاة صاحب الريحانة سنة ثمان وثلاثين وتسعمائة ووفاة علاء الدين سنة اثنين وتسعين وثمانمائة ووفاة الكازورى سنة ستين وثمانمائة فاحذر من الإنكار فإنه يوقع المنكر في العثار وكن محسن الإعتقاد على غاية من الازدياد فإن المنكر محروم والمتعنت مذموم والحق أحق أن يتبع والباطل عن هؤلاء الأئمة قد اندفع أدخلنا الله تحت ألويتهم الطاهرة من الريب الظاهرة على سائر الرتب فإننا نعتقدهم ونحبهم ومن أحب قوما فهو يحشر معهم."

( ص: ٢٣٨ - ٢٤٠، ط: دار الفكر)

2۔  وحدت الوجود اور وحدت الشہود میں اعتباری فرق ہے، حقیقی فرق نہیں، جیسا کہ  حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی تحریر بالا سے واضح ہوتا ہے۔

3۔ بصورتِ مسئولہ وحدت الوجود کے مسئلہ  میں شیخ محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ  (متوفی: ٦٣٨ ھ) کا جو تصوفانہ نظریہ ہے، وہ نظریہ  وجدانی کشفی ہے۔

ابن عربی رحمہ اللہ کے نظریہ وحدت الوجود پر عقیدہ رکھنے سے متعلق  حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

" پس یہ قول تو حضرت شیخ سے حالتِ سکر میں صادر ہوا ہے جس میں وہ معذور تھے اور حالتِ سکر کے اقوال ماننے کے لیے ہم کو مجبور نہیں کیا جاسکتا"۔

        (خطبات حکیم الامت، ۲۱ / ۷۳، ط:تالیفات اشرفیہ)

"اگر کوئی شخص ان دعووں  پر اعتقاد نہ رکھے تو اس پر کوئی ملامت نہیں ہے، البتہ جو دعوی نصوص (قرآن و حدیث) کے ظاہر کے خلاف ہو تو اس پر کسی بھی طرح اعتقاد رکھنا درست نہیں ہے"۔

(ملخص از التنبیہ الطربی فی تنزیہ ابن العربی)

4۔ ابن عربی رحمہ اللہ کے متعلق حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی رائے مندرجہ ذیل ہے:

"مگر  ان غلطیوں کے باوجود شیخ اب بھی ویسے ہی حسین ہیں، جیسا کہ وہ ان اغلاط سے پہلے حسین تھے، ان کےعارف اور بہت بڑے ولی ہونے میں کس کو کلام ہوسکتا ہے، انہوں نے اگر ایک دو جگہ لغزش کی ہے تو ہزار جگہ ایسی تحقیقات بھی بیان کی ہیں  جن سے قرآن وحدیث کی حقیقت اور عظمت معلوم ہوتی ہے، جس نے شریعت کے اس قدر اسرار بیان کیے ہوں اس سے ایک دو جگہ لغزش بھی ہوجائے تو اس سے اس کے حسن میں کیا فرق آسکتا ہے"۔

(خطبات حکیم الامت، ۲۱ / ۷۳ ، ط:ادارہ تالیفات اشرفیہ)

 "البتہ چوں کہ حضرت شیخ کا کامل ہونا اساطینِ امت کی شہادت سے ثابت ہے؛ اس لیے اس سے شیخ ابن عربی پر طعن کرنا خطرے کا محل اور سوئے ادب ہے، رہا اس غلطی کا شیخ ابن عربی سے صادر ہونا تو اس کی مناسب توجیہ یہ کی جائے گی یا تو اسے اجتہاد کی غلطی کہاجائے گا  یا اس کی شیخ کی طرف نسبت کو غلط کہا جائے گا، جیسا کہ در مختار میں ہے"۔

(ملخص از التنبیہ الطربی فی تنزیہ ابن العربی)

ابن عربی رحمہ اللہ  سے متعلق مزید تفصیل کے لیے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ  کی کتاب"خصوص الکلم" جوکہ ابن عربی رحمہ اللہ  کی کتاب "فصوص الحکم" کی شرح ہے، مطالعہ کرلی جائے، جس کے آغاز  میں  حضرت تھانوی رحمہ اللہ  نے ایک مختصر مقدمہ بھی تحریر فرمایاہے جو کہ"التنبيه الطربي في تنزيه ابن العربي" کے نام سے موسوم ہے۔

الفتاوی الحدیثیہ میں ہے:

"(وسئل) نفع الله به بما لفظه ما تقولون في ابن عربي هل هو على طريقة الهدى أم نهج الردى وهل صح تكفيره أو لا وهل قال أحد أنه على الصواب أو لا أوضحوا الجواب وأوضحوا لنا حاله فإنه تكاثرت الأقوال فيه ولم ندر الصحيح من السقيم (فأجاب) رضي الله عنه بقوله الشيخ محيي الدين ابن عربي رحمه الله ورضي عنه إمام جمع بين العلم والعمل كما اتفق على ذلك من يعتد به كيف وقد ذكر بعض المنكرين في ترجمته أنه كان وصل لمرتبة الاجتهاد وحينئذ فإسلامه متيقن وكذلك علمه وعمله وزهادته وورعه ووصوله في الاجتهاد في العبادة إلى ما لم يصل إليه أكابر أهل الطريق وإذا تقرر أن هذا كله معلوم من حاله فالأصل بقاؤه عليه إلى أن مات فلا يجوز الإقدام على تنقيصه بمجرد التهور والتخيلات التي لا مستند لها يعتد به بل يستصحب ما علم من إسلامه ومعارفه وعلومه هذا ما يتعلق بذلك وأما الكتب المنسوبة له فالحق أنه واقع فيها ما ينكر ظاهره والمحققون من مشايخنا ومن قبلهم على تأويل تلك المشكلات بأنها جارية على اصطلاح القوم وليس المراد منها ظواهرها قال بعض المحققين من مشايخ مشايخنا مع اعتقادي فيه المعرفة الكبرى والنزاهة العظمى لو رأيته للمته وقلت له قد أودعت في كتبك أشياء كانت سببا لضلال كثيرين من الجهال بطريقتك واصطلاحك فإن أكثر الناس ليس لهم من الكلام إلا ظاهره وظاهر تلك الكلمات كفر صريح ارتبك فيه أقوام اغتروا بكلامك ولم يدروا أنه جار على اصطلاحك فليتك أخليت تلك الكتب عن الكلمات المشكلة انتهى حاصل ما قاله ذلك المحقق وهو كلام حسن وإن فرض أن للشيخ عذرا في ذكرها غيرة على طريقتهم أن ينتحلها الكذابون لأن هذا لو فرض وقوعه كان أخف مما ترتب على ذكر تلك الكلمات من زلل كثير بسببها ولقد رأيت ممن ضل بها من يصرح بمكفرات أجمع المسلمون على أنها مكفرات ومع ذلك يعتقدها وينسبها لابن عربي ولقد كذب في ذلك وافترى فإن ابن عربي برئ من ذلك باعتبار ما علم واستقرى من حاله والحاصل أنه يتعين على كل من أراد السلامة لدينه أن لا ينظر في تلك المشكلات ولا يعول عليها سواء قلنا أن لها باطنا صحيحا أم لا وأن لا يعتقد في ابن عربي خلاف ما علم منه في حياته من الزهد والعبادة الخارقين للعادة وقد ظهر له من الكرامات ما يؤيد ذلك منها ما حكاه صاحب القاموس أنه لما فرغ من تأليف كتابه الفتوحات المكية جعله وهو ورق مفرق على ظهر الكعبة فمكث سنة لم تطير الريح منه ورقة ولا وصلت إليه قطرة مطر مع كثرة أمطارها ورياحها فسلامة تلك الأوراق من المطر والريح مع مكثها سنة على السطح من الكرامات الباهرة الدالة على إخلاصه في تأليفه يقتضي التضليل كقوله بإسلام فرعون لأن هذا لا يقتضي كفرا وإنما غايته أنه خطأ في الاجتهاد وهو غير قادح في صاحبه إذ كل من العلماء مأخوذ من قوله ومردود عليه إلا المعصومين والله سبحانه وتعالى أعلم بالصواب وإليه المرجع والمآب ."

( ص: ٢٤٠ - ٢٤١، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101787

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں