بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

وہم اور وساوس سے متعلق ایک سوال


سوال

کیاوہمی اور  وسواسی انسان پاکی اورناپاکی میں عوام کی  اقتداکرسکتاہے؟ کیاوساوس میں مبتلا شخص کے لیے شریعتِ مطہرہ میں کچھ مراعات اور سہولت ہے؟

جواب

وہم اور وسوسے کا سب سے کار گر اور مفید  علاج یہی ہے کہ اس کی طرف بالکل  توجہ نہ دی جائے،    وساوس سے بالکل  پریشان نہ ہونا چاہیے، اور  ان کی طرف دھیان ہی نہ دینا چاہیے۔ نیز ایسے وساوس سے حفاظت کے لیے ان دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے:

1... "أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

2... اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِكَ مِنْ  هَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ  وَأَعُوْذُبِكَ رَبِّ مِنْ أَنْ یَّحْضُرُوْنَ.

3...  اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ وَسَاوِسَ قَلْبِيْ خَشْیَتَكَ وَ ذِكرَكَ وَاجْعَلْ هِمَّتِيْ وَ هَوَايَ فِیْمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰى"

وساوس میں مبتلا شخص کے لیے یہی سہولت ہے کہ وہ کسی وسوسہ میں مبتلا نہ ہو اور معمول کے مطابق اپنے اعمال جاری رکھے، مثلاً اگر  کسی  شخص کو دورانِ وضو  شک ہوتاہو تو صرف تین مرتبہ اعضاءِ وضو دھوئے،  اگر وسوسہ آ بھی جائے تو اُس کی طرف قطعاً توجہ نہ دے اور  اگر وضو کر لینے کے بعد کسی عضو کے نہ دھونے سے متعلق وسوسہ آئے تو اس کی طرف  التفات کرنے کی ضرورت بھی نہیں اور دوبارہ وضو کرنے کی بھی حاجت نہیں، خلاصہ یہ کہ وساوس کی طرف دھیان نہ دینا ہی اس کا علاج ہے اور اس کے متعلق اپنے علاقہ میں کسی مستند عالم سے رابطہ میں رہے اور اُن کو اپنی نوعیت بتا کر جواب معلوم کرتا رہے۔

اگر آپ کی مراد عوام کی اقتدا کرنے سے یہ ہے کہ مثلاً وسواسی شخص کو اعضاءِ وضو دھونے کے دوران خود اپنی گنتی اور پاکی پر اطمینان نہ ہوتا ہو تو وہ برابر میں کسی شخص کی گنتی پر اعتماد کرسکتا ہے؟ یا کسی اور کے اس کہنے پر اعتماد کرسکتاہے کہ پاکی حاصل ہوگئی؟ تو اگر ہر طرح کوشش کے باوجود وسوسہ دور نہ ہوتاہو تو اس کی گنجائش ہوگی، لیکن اس سے وسوسہ ختم ہونے کے بجائے مزید پختہ ہوگا، اس لیے کسی ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرکے خود اعتمادی پیدا کی جائے، اعصابی کم زوری بھی وسوسے اور شکوک کا سبب ہوسکتی ہے، اپنے عزم اور قوتِ ارادی پر توجہ دینے سے بھی وساوس کم ہوسکتے ہیں۔

الفتاوى الهندية (1/ 13):

"(ومما يتصل بذلك مسائل الشك) في الأصل من شك في بعض وضوئه وهو أول ما شك غسل الموضع الذي شك فيه فإن وقع ذلك كثيرا لم يلتفت إليه هذا إذا كان الشك في خلال الوضوء فإن كان بعد الفراغ من الوضوء لم يلتفت إلى ذلك ومن شك في الحدث فهو على وضوئه ولو كان محدثا فشك في الطهارة فهو على حدثه ولا يعمل بالتحري. كذا في الخلاصة."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200584

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں