بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

وفات نبوی کی تاریخ کی تحقیق


سوال

آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وفات پر آج کل مختلف اقوال پیش کئیے جاتے ہیں، جبکہ آقا نے آخری خطبہ حج 9 ذی الحج بروز جمعہ کو ادا کیا،اس لحاظ سے آقا کے وصال کی تاریخ یکم یا دو ربیع الاول بنتی ہے اور جمہور 12 ربیع الاول کے قائل ہیں، آپ کی ویب سائٹ پر بھی وصال کی تاریخ 12 ربیع الاول درج ہے،حضرت اس مسئلے میں رہنمای فرما دیں

جواب

اس بات تو سب کا اتفاق ہےکہ ولادت کا دن پیر ہے اور اسی روز آپ کی وفات بهی ہوئی، اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے ایک روایت بهی مروی ہے، لیکن تاریخ کا ذکر کسی روایت میں نہیں ملتا.
اکثر اہل سیر نے 2 کا اور بعض نے یکم کا قول اختیار کیا یے، فلکیات کے ماہرین حسابی اصولوں کے مطابق یکم یا دو کو ہی درست قرار دیتے ہیں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بارہ تاریخ کی شہرت کا سبب یہ بتایا ہے کہ بعض کتب میں "ثانی شهر ربیع الاول" لکها گیا تها، جسے "ثانی عشر"پڑه لیا گیا یوں وفات نبوی کے متعلق بارہ ربیع الاول کی شہرت ہوگئی، حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ حجة الوداع کا خطبہ آپ نے جمعے کے دن 9 ذوالحجہ کو دیا تها، اس حساب سے پیر کے روز بارہ ربیع الاول کی تاریخ نہیں بنتی، بہرکیف اس مسئلے میں محققین کے ہاں بارہ کا قول درست نہیں، ہماری ویب سائٹ پر مشہور قول کے ساته دوسرے دو اقوال بهی مذکور ہیں اور علامہ سہیلی وحافظ ابن حجر رحمهما للہ کے حوالے سے ان کی ترجیح بهی ذکر کی گئی ہے، واللہ اعلم.


فتوی نمبر : 143604200013

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے