بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

وضو کے بچے ہوئےپانی سے استنجا کرنا


سوال

وضو کے بچے  ہوئےپانی سے استنجا درست ہے کہ نہیں؟ 

جواب

وضو  سے بچے ہوئے پانی سے  استنجا  کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

حلبی کبیر میں ہے:

"وينزل عليكم من السماء ماء ليطهركم  به دل  بعبارته علي كون ماءالمطر مطهراو بدلالته علي كون سائر المياه المطلقة مثله مطهرة مالم  يعرض لها عارض يزيل ذالك الحكم عنها."

(أحكام المياه،ص:86، ط:محمدی لاہور)

 فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

’’سوال: وضو سے بچے ہوئے  پانی سے استنجاء کرسکتے ہیں یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً:اس پانی سےا ستنجاء کرنادرست ہے۔‘‘

(فتاوی دارالعلوم دیوبند،ج:1، ص:137، ط:دارالاشاعت)

مسائل بہشتی زیور میں ہے:

’’وضوء سے بچے ہوئے پانی سے استنجاء کرنا درست ہے.‘‘

(باب الاستنجاء،ص:128،ط:ادارہ  نشریات اسلامی)

فقط واللّٰہ تعالی اعلم 


فتوی نمبر : 144501100071

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں