بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

وبا کی وجہ سے اذان دینا


سوال

 آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے اذان دی جا رہی ہے،  کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

وبا کے خاتمہ کے حوالے سے فقہاء حنفیہ سے کوئی روایت منقول نہیں، البتہ   بعض ناگہانی آفات اورشدید مصائب وپریشانی،  سے نجات کے لیے اذان دینے کے حوالے سے  بعض فقہاءِ  شافعیہ نے اجازت دی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں موجودہ وبائی صورتِ حال میں اسے سنت سمجھے بغیر بطورِ علاج  اذان دینے کی گنجائش ہے، تاہم یہ اذانیں مساجد میں نہ دی جائیں، نیز کسی خاص وضع کا التزام بھی نہ ہو۔

فتاوی بینات میں ہے :

’’اس لیے ایسی پریشانی کے موقع پر اذان دینے کی ہم ترغیب تو نہیں دیں گے، لیکن اگر کوئی دیتا ہے تو ہم اس کو ”بالکل غلط حرکت“ بھی نہیں کہیں گے‘‘ (2/231)

"وفي حاشية البحر الرملي: رأيت في كتب الشافعية أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود، والمهموم، والمصروع، والغضبان، ومن ساء خلقه من إنسان أو بهيمة، وعند مزدحم الجيش، وعند الحريق، قيل وعند إنزال الميت القبر قياسا على أول خروجه للدنيا، لكن رده ابن حجر في شرح العباب، وعند تغول الغيلان: أي عند تمرد الجن لخبر صحيح فيه. أقول: ولا بعد فيه عندنا. اهـ. أي لأن ما صح فيه الخبر بلا معارض فهو مذهب للمجتهد وإن لم ينص عليه، لما قدمناه في الخطبة عن الحافظ ابن عبد البر والعارف الشعراني عن كل من الأئمة الأربعة أنه قال: إذا صح الحديث فهو مذهبي، على أنه في فضائل الأعمال يجوز العمل بالحديث الضعيف كما مر أول كتاب الطهارة، هذا، وزاد ابن حجر في التحفة الأذان والإقامة خلف المسافر. قال المدني: أقول وزاد في شرعة الإسلام لمن ضل الطريق في أرض قفر: أي خالية من الناس. وقال المنلا علي في شرح المشكاة قالوا: يسن للمهموم أن يأمر غيره أن يؤذن في أذانه فإنه يزيل الهم، كذا عن علي - رضي الله عنه - ونقل الأحاديث الواردة في ذلك فراجعه. اهـ". (رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الأذان 1 / 385 ط: سعيد)

جامعہ ہٰذا کے سابقہ فتاویٰ میں ہے:

’’سوال:

کسی عظیم حادثے کے نازل ہونے کے بعد مسجدوں میں رات کے وقت اذانیں دی جائیں؛ تاکہ اس کی برکت سے بلا رفع ہوجائے، کیا اس کا کوئی شرعی ثبوت ہے؟

جواب:

صورتِ مسئولہ میں احناف سے اس بارے میں کوئی روایت منقول نہیں، البتہ شوافع کے اقوال سے مسنون معلوم ہوتاہے، جس پر علامہ شامی رحمہ اللہ نے کہاہے کہ ایسے مواقع پر اذان دی جائے تو ہمارے نزدیک بھی اس کی گنجائش ہے؛ لما في رد المحتار:

’’ولا بعد فيه عندنا...‘‘ الخ (کتاب الصلاة، باب الأذان، مطلب في المواضع التي یندب لها الأذان في غیر الصلاة، (1/385) ط: سعید)

البتہ یہ اذان مسجدوں میں نہ دی جائے؛ تاکہ اذانِ صلاۃ کے ساتھ التباس نہ ہوجائے۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: محمد عبدالسلام چاٹ گامی                                                                       الجواب صحیح: ولی حسن‘‘

’’کفایت المفتی‘‘  (از مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب  رحمہ اللہ) میں ہے :

’’سوال : دفعِ وباء کے لیے اذان دینا جائز ہے یا نہیں؟  تنہا یا گروہ کے ساتھ مسجد میں یا گھر میں؟

جواب : دفعِ وباء کے لیے اذانیں دینا تنہا یا جمع ہوکر بطورِ علاج اور عمل کے مباح ہے، سنت یا مستحب نہیں‘‘۔  (۳ / ۵۲، دار الاشاعت ) 

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح   میں ہے:

وَقَالَ ابْنُ حَجَرٍ: هُوَ لُغَةً الْإِعْلَامُ وَشَرْعًا قَوْلٌ مَخْصُوصٌ يُعْلَمُ بِهِ وَقْتُ الصَّلَاةِ، وَخَرَجَ بِهَا الْأَذَانُ الَّذِي يُسَنُّ لِغَيْرِ الصَّلَاةِ كَالْأَذَانِ فِي أُذُنِ الْمَوْلُودِ الْيُمْنَى، وَالْإِقَامَةِ فِي الْيُسْرَى، وَيُسَنُّ أَيْضًا عَنِ الْهَمِّ وَسُوءِ الْخُلُقِ لِخَبَرِ الدَّيْلَمِيِّ، «عَنْ عَلِيٍّ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِينًا فَقَالَ: (يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ إِنِّي أَرَاكَ حَزِينًا فَمُرْ بَعْضَ أَهْلِكَ يُؤَذِّنْ فِي أُذُنِكَ، فَإِنَّهُ دَرَأُ الْهَمِّ) قَالَ: فَجَرَّبْتُهُ فَوَجَدْتُهُ كَذَلِكَ» . وَقَالَ: كُلٌّ مِنْ رُوَاتِهِ إِلَى عَلِيٍّ أَنَّهُ جَرَّبَهُ، فَوَجَدَهُ كَذَلِكَ. وَرَوَى الدَّيْلَمِيُّ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( «مَنْ سَاءَ خُلُقُهُ مِنْ إِنْسَانٍ أَوْ دَابَّةٍ فَأَذِّنُوا فِي أُذُنِهِ» ) اهـ". ( بَابُ الْأَذَانِ، الفصل الاول، ٢ / ٥٤٧، ط: دار الفكر)

حاشیۃ البحرالرائق میں ہے :

"( قوله : وخرج بالفرائض إلخ ) قال الرملي: أي الصلوات الخمس، فلايسن للمنذورة. ورأيت في كتب الشافعية: أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود، والمهموم والمفزوع، والغضبان ومن ساء خلقه من إنسان أو بهيمة، وعند مزدحم الجيش، وعند الحريق، قيل: وعند إنزال الميت القبر قياساً على أول خروجه للدنيا، لكن رده ابن حجر في شرح العباب، وعند تغول الغيلان أي عند تمرد الجن لخبر صحيح فيه أقول : ولا بعد فيهعندنا". (3/10)

کفایت المفتی میں ہے:

’’شدید وبا کے وقت بطورِ عمل اگر اذان کہی جائے اور اسے سنت یا مستحب نہ سمجھا جائے تو مباح ہے‘‘۔  ( کتاب الصلاۃ، پہلا باب: اذان و تکبیر، بعنوان: نماز کے علاوہ کن مواقع پر اذان کہنا جائز ہے، 3 / 45)

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

"طاعون وباء وغیرہ امراض کے شیوع کے وقت کوئی خاص نماز احادیث سے ثابت نہیں، نہ ہی اس وقت اذانیں کہنا کسی حدیث میں وارد ہوا ہے ،اس لئے اذان کو یا نماز کو ان موقعوں میں ثواب یا مسنون یا مستحب جاننا خلاف واقع ہے "۔ ( فتاوی رشیدیہ : 152)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200012

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں