بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

وادی جن کی حقیقت کیا ہے؟


سوال

وادی جن کی حقیقت کیا ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ وادی جن کا اصل نام 'مقام بیداء' ہے، اور یہ مکہ و مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے، (اور ابو جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیدا ء مدینہ کا ایک میدان ہے) اس جگہ کے بارے میں حدیث شریف میں ہےکہ:

"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تو انہیں اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ ! اسے شروع سے آخر تک کیوں کر دھنسایا جائے گا جب کہ وہیں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکریوں میں سے نہیں ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! شروع سے آخر تک ان سب کو دھنسا دیا جائے گا۔ پھر ان کی نیتوں کے مطابق وہ اٹھائے جائیں گے۔"

ایک دوسری روایت میں ہے:

"عبیداللہ بن قبطیہ سے مروی ہے کہ حارث بن ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس لشکر کے متعلق دریافت کیا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ کے حاکم تھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے: "ایک آدمی بیت اللہ میں پناہ لے گا تو ان کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا۔ جب وہ لشکر بیدا نامی جگہ پر پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا" میں نے کہا: یارسول اللہ! جو زبردستی اس لشکر کے ساتھ (مجبور ہو کر) شامل ہوا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی لشکر کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا جائے گا مگر روز قیامت اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔"

باقی اس کے علاوہ  وادی جن کی شرعاً  کوئی خاص حقیقت نہیں ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن نافع بن جبير بن مطعم قال: حدثتني عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (يغزو جيش الكعبة، فإذا كانوا ببيداء من الأرض يخسف بأولهم وآخرهم). قالت: قلت: يا رسول الله، كيف يخسف بأولهم وآخرهم، وفيهم أسواقهم، ومن ليس منهم؟. قال: (يخسف بأولهم وآخرهم ثم يبعثون على نياتهم)."

(كتاب البيوع، باب: ما ذكر في الأسواق، ج: 2، ص: 746، رقم: 2012، ط: دار اليمامة - دمشق)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن عبيد الله بن القبطية. قال: دخل الحارث بن أبي ربيعة وعبد الله بن صفوان، وأنا معهما، على أم سلمة، أم المؤمنين. فسألاها عن الجيش الذي يخسف به. وكان ذلك في أيام ابن الزبير. فقالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "يعوذ عائذ بالبيت فيبعث إليه بعث. فإذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بهم" فقلت: يا رسول الله! فكيف بمن كان كارها؟ قال يخسف به معهم. ولكنه يبعث يوم القيامة على نيته.وقال أبو جعفر: هي ‌بيداء المدينة."

(كتاب الفتن وأشراط الساعة، باب الخسف بالجيش الذي يؤم البيت، ج: 4، ص: 2208، رقم: 2882، ط: دار إحياء التراث العربي)

عمدۃ القاری میں ہے:

"قال: (هي ‌بيداء المدينة)، وهي بفتح الباء الموحدة وسكون الياء آخر الحروف ممدودة، وهي في الأصل المفازة التي لا شيء فيها، وهي في هذا الحديث اسم موضع مخصوص بين مكة والمدينة."

(كتاب البيوع، باب ما ذكر في الأسواق، ج: 11، ص: 236، ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504102513

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں