بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

ووٹ ڈالنے کے لیے اعتکاف سے نکلنے کا حکم


سوال

اگر اعتکاف میں ہو اور الیکشن ہو جائے تو کیا ووٹ ڈالنے جا سکتے ہیں ؟اس سے اعتکاف فاسد تو نہیں ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ معتکف کے لئے ضرورت شرعیہ جیسے جمعہ کی نماز کی ادائیگی وغیرہ، اور حاجت اصلیہ جیسے  قضائے حاجت  وغیرہ کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے مسجد سے نکلنے کی اجازت نہیں، پس اگر معتکف  ضرورت شرعیہ و حاجت اصلیہ کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے  مسجد سے باہر نکلے گا تو اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گا، اور ایک دن کے اعتکاف کی قضاء مع روزہ لازم ہوگی،  لہذا صورت مسئولہ میں اگر معتکف ووٹ ڈالنے کے لئے مسجد سے باہر جائے گا تو اس سے اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گا، ایک دن کے اعتکاف کی قضاءمع روزہ  لازم ہوگی۔

سنن ابي داؤد  میں ہے:

"٢٤٧٣ - حدثنا وهب بن بقية، أخبرنا خالد، عن عبد الرحمن - يعني ابن إسحاق - عن الزهري، عن عروة عن عائشة، أنها قالت: السنة على المعتكف أن لا يعود مريضا، ولا يشهد جنازة، ولا يمس امرأة، ولا يباشرها، ولا يخرج لحاجة إلا لما لا بد منه، ولا اعتكاف إلا بصوم، ولا اعتكاف إلا في مسجد جامع."

(  كتاب : الصَّوم، باب : المعتكف يعود المريض، ٤ / ١٣٠، ط: دار الرسالة العالمية )

ترجمہ:’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ  کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ  کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔‘‘

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"(قال): ولا ينبغي للمعتكف أن يخرج من المسجد إلا لجمعة أو غائط أو بول أما الخروج للبول والغائط فلحديث عائشة - رضي الله عنها - قالت «كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لا يخرج من معتكفه إلا لحاجة الإنسان»؛ ولأن هذه الحاجة معلوم وقوعها في زمان الاعتكاف، ولا يمكن قضاؤها في المسجد فالخروج لأجلها صار مستثنى بطريق العادة ."

( باب الاعتكاف، ٣ / ١١٧، ط: دار المعرفة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ونهارا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدا أو ناسيا هكذا في فتاوى قاضي خان ... ولو خرج لجنازة يفسد اعتكافه، وكذا لصلاتها."

( كتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف، ١ / ٢١٢، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101335

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں