بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بڑے جانوروں میں مرض ہو اور چھوٹے جانور مہنگے ہوں تو قربانی کا حکم


سوال

ہماری طرف بڑے جانوروں میں اس دفعہ بہت زیادہ وائرس پھیلا ہوا ہے جس وجہ سے لوگ بڑے جانوروں کی قربانی نہیں کر رہے،زیادہ تر لوگ 7 لوگ ایک جانور میں حصہ ڈال کر قربانی کرتے ہیں،لیکن اس دفعہ بہت مشکل ہے اور چھوٹا جانور بکرا، دنبہ وغیرہ بہت مہنگے ہیں، تو اس صورت میں قربانی کا کیا حکم ہو گا؟ کیا قربانی وائرس کی صورت میں واجب ہو گی  کہ نہیں؟ یا اس سال چھوڑکے اگلے سال قربانی کر لیں؟

جواب

 صاحبِ نصاب شخص پر بہرحال قربانی واجب ہے،بیماری کی وجہ سے اگر جانور مہنگے ہوگئے ہیں تو اس  کی وجہ سے قربانی چھوڑنا یا اگلے سال تک مؤخر کرنا شرعاً جائز نہیں ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کو چاہیے کہ کوئی تندرست بڑا جانوریا مناسب دام کا چھوٹا جانور یا بڑے جانور میں حصہ لےکر اس کی قربانی کرے۔نيز اگر قرباني  نہیں کی تو  دوبارہ  معلوم كريں۔

حدیث شریف میں ہے :

" عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من كان له سعة، و لم يضح، فلايقربن مصلانا".

(سنن ابن ماجه، باب الأضاحي أواجبة هي أم لا؟، 1044/2، ط: دار إحياء الكتب العربية)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "جس کے پاس گنجائش اور استطاعت ہو    اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ  کے قریب ہرگز نہ آئے۔"

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"ومنها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم  أنه قال: «من وجد سعة فليضح» شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر."

(کتاب الأضحیة، 64/5، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144311101760

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں