بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ویڈیو کال کا حکم


سوال

1:- ویڈیو کال کا کیا حکم ہے ؟

2:- ڈیجیٹل ویڈیو بنانا کیسا ہے ؟

جواب

1 : ویڈیو کال  تصویر ہی کے حکم میں ہے، کیوں کہ اس میں انتہائی سرعت کے ساتھ  بہت ساری تصویروں کو  محفوظ کر کے آگے بھیجنے کا عمل مستقل جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ سامنے والا براہِ  راست نظر آرہا ہے، جب کہ اس کی اصل بھی ریکارڈ شدہ ویڈیو اور تصویر کی ہی ہے، اور جاندار کی  تصویر اور ویڈیو شرعاً حرام اور ناجائز ہے؛  اس لیے ویڈیو کال جس میں جاندار کی تصویر ہو، وہ بھی شرعاً ناجائز ہے۔

2 :ڈیجیٹل ویڈیو کا بھی یہی حکم ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200849

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں