بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مضاربت میں متعین نفع کی شرط


سوال

1- اگر کسی دوست کو اس کی رضامندی پہ کاروبار میں لگانے کیلئے رقم دوں اور شرح منافع اس بات پہ متعین ہو کہ چاہے کہ منافع ایک لاکھ روپے ہو مجھے اس سے غرض نہیں میری ضرورت کی رقم 20,000 ہزار ماہانہ     مجھے اد کردیا کرے جو کہ میرا خرچہ ہے اس کے علاوہ ،اور کوئی بات مشروط نہیں۔ نیز میں نے دل میں یہ ارادہ بھی کر رکھا ہے کہ جیسے ہی میری رقم پوری ہوگی،  اس کے بعد میں اس سے منافع نہیں لوں گا اور جو رقم میں نے اس کو کاروبار  کے لیے دی ہوئی وہ اس کو معاف کردوں گا۔ اگر مقررہ رقم بصورت منافع مجھے وصول ہوجاتی ہے؟

2- اور میری گنجائش نہیں ہوتی کہ میں اس کو معاف کردو اور اس سے منافع لیتا رہوں تو اس صورت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

1 -صورت مسئولہ میں سائل کا نفع میں سے بیس ہزار روپے کی ادائیگی کی شرط لگانا ناجائز ہے جس سے سارا معاملہ ہی ناجائز ہوگیا تھا ، اس کے بجاۓ رقم سے حاصل شدہ  نفع سائل اور شریک کے درمیان فیصد کے حساب سے تقسیم کیا جاۓ اور ہر شریک کا حصہ فیصد کی صورت میں مقرر کرکے تقسیم کیا جائے گا اور کسی بھی شریک کے لئے نفع میں سے کوئی رقم پہلے سے متعین نہ کی جائے  ۔

2-صورتِ  مسئولہ   میں جب آپ نے یہ شرط لگائی کہ  بیس ہزار روپے بطور  نفع لوں گا تو یہ شرط لگانا درست نہیں تھا،اور اس کی وجہ سے یہ عقد بھی فاسد ہوگیا تھا،اس کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس عقد سے حاصل ہونے والا تمام نفع رقم دینے والے گا ہوگا اور جس کو رقم دی تھی اس  کو اجرتِ مثل (اس جیسے کام پر جتنی اجرت دینے کا رواج ہے) ملے گی۔ 

نیز اگر اس معاملے کو جاری رکھنا چاہیں تو گذشتہ معاہدہ میں طے پانے والی شرطِ فاسد (ماہانہ بیس ہزارروپے )ختم کرکے ازسرنو معاہدہ کریں اور حاصل شدہ نفع کی تقسیم فیصد کے تناسب سے مقرر کریں۔ 

فتح القدر میں ہے:

"(‌ولا ‌تجوز ‌الشركة ‌إذا شرط لأحد دراهم مسماة من الربح) قال ابن المنذر: لا خلاف في هذا لأحد من أهل العلم. ووجهه ما ذكره المصنف بقوله لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة فعساه لا يخرج إلا قدر المسمى فيكون اشتراط جميع الربح لأحدهما على ذلك التقدير، واشتراطه لأحدهما يخرج العقد عن الشركة إلى قرض أو بضاعة على ما تقدم."

(كتاب الشركة،فصل،ولا تنعقد الشركة إلا بالدراهم والدنانير والفلوس النافقة،١٨٣/٦،ط: دار الفكر)

البنایۃ  میں ہے:

"قال ‌ولا ‌تجوز ‌الشركة ‌إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة فعساه لا يخرج إلا قدر المسمى لأحدهما ونظيره في المزارعة."

(كتاب الشركة،فصل،ولا تنعقد الشركة إلا بالدراهم والدنانير والفلوس النافقة،٤٠٥/٧ ،ط: دار الكتب العلمية )

شرح المجلہ میں ہے :

"علي أي وجه شرط تقسيم الربح في الشركة الصحيحة يراعي ذلك الشرط علي كل حال اذا كان موافقا للشرع."

(الباب العاشر في أنواع الشركات ،المبحث الأول ،٥٧٢/٢،ط: مكتبه فاروقه)

البحر الرائق میں ہے:

" الرابع أن يكون الربح بينهما شائعا كالنصف والثلث لا سهما معينا يقطع الشركة كمائة درهم أو مع النصف عشرة الخامس أن يكون نصيب كل منهما معلوما فكل شرط يؤدي إلى جهالة الربح فهي فاسدة وما لا فلا مثل أن يشترط أن تكون الوضيعة على المضارب أو عليها فهي صحيحة وهو باطل ۔۔۔وحكمها أنه أمين بعد دفع المال إليه ووكيل عند العمل وشريك عند الربح وأجير عند الفساد فله أجر مثله والربح كله لرب المال."

(كتاب المضاربة،٢٦٤٧ ،ط: دارالكتاب الإسلامي بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412101080

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں