بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

والد کے ترکہ میں بیٹیوں کا بھی حق ہے


سوال

  ہم تین بھائی، پانچ بہنیں اور ایک والدہ ہیں، ہم والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں رہتے تھے، والد صاحب نے اس گھر کی چھت پر دو مکان اور بنائے، جس میں سے بڑے بھائی کو ان کی مرضی سے ایک مکان دیا ،اور دوسرے بھائی کو دوسرا مکان دے دیا ،ان مکانوں کے بجلی کے میٹر بھی الگ لگوائے اور پانی کی ٹنکیاں بھی الگ بنوائیں ،تاکہ بعد میں مسائل نہ ہوں، اور اس کے بعد اس کا نفع اور نقصان ان کے حوالے ہو گیا ،ان دونوں مکانوں کے راستے بھی تقریبا الگ الگ بنوائے ،اور تیسرا وہ گھر جو نیچے کا تھا جس میں ہم پہلے سے رہتے تھے، جو کہ بڑا بھی تھا تیسرے بھائی کے حوالے کیا، جس میں  والدہ بھی ساتھ میں ہوں گی ،اس تیسرے گھر کا بھی بجلی کا میٹر اور پانی کی ٹنکی الگ کر دی ،تاکہ بعد میں مسائل نہ ہو ں اور ایک پلاٹ جو کہ الگ سے والد صاحب نے خریدا تھا جو ایک بہن کے نام کیا اور یہ کہا کہ فلاں بہن کی شادی کے بعد یہ پلاٹ اس کا رہے گا ،اور بعد میں ضرورت کے تحت وہ پلاٹ اپنی زندگی میں ہی والد صاحب نے بیچ کر اپنے استعمال میں لایا اور اس کے علاوہ بھی والد صاحب کی کچھ جائیداد تھی جو کہ ہم سب کی مشترکہ تھی والد صاحب کے انتقال کے بعد باقی جائیداد سے جو بھی آمدن ہوتی تھی وہ ہمارے درمیان شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی تھی اور یہ سلسلہ تقریبا 13 سال تک اسی طرح چلتا رہا اور یہ جو پلاٹ جس کے اندر والد صاحب نے اپنی زندگی میں گھر بنوائے تھے الگ الگ اور ہم اس میں رہتے تھے اس کی آمدن تین بھائی اور ایک والدہ کے درمیان تقسیم ہوتی تھی سوال یہ پوچھنا تھا کہ کیا یہ پلاٹ جو کہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں بنا کر بھائیوں اور والدہ کے حوالے کیا تھا اس میں بہنوں کا بھی حصہ ہے یا نہیں؟

جواب

  صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے اگر  گھر  باقاعدہ تقسیم کرکے ہر ایک بیٹے کو دےدیا تھا  تو اس سے ہبہ مکمل ہوگیا تھا ، ہر ایک کی ملکیت اپنے حصے میں آگئی تھی ،تاہم اپنی جائداد  بیٹوں کو دینے اور بیٹیوں کو محروم  کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا،لیکن اگر مرحوم نے گھر باقاعدہ  تقسیم کر کے ہر ایک بیٹے کو   نہیں دیا تھا ، بلکہ مشترکہ طور پر ہبہ کیا تھا ، یا صرف زبانی طور پر دیا  تھا، عملاً مرحوم ہی کے قبضہ میں تھا،  تو  تب یہ گھر مرحوم ہی کی ملکیت میں تھا، اور ان کے انتقال کے بعد ترکہ میں شمار ہوگا، اسی طرح  جو پلاٹ والد نے ایک بیٹی کے نام کر کے یہ کہا تھا فلاں کی شادی کے بعد یہ پلاٹ اس کا رہے گا ، پھر اسے بیچ دیا تو یہ مکان والد کا ہی تھا، اس کے لیے یہ پلاٹ  بیچنا اور اس کی رقم استعمال کرنا  جائز تھا۔بہر صورت مرحوم کے انتقال کے وقت  ان کی ملکیت کی زمین ہو  یا  بیٹوں میں تقسیم کیا گیا زمین  زندگی میں ہبہ (گفٹ ) مکمل نہ ہونے کی صورت میں تمام زمینیں ہوں، جو بھی مرحوم  کا ترکہ ہے، اس میں جس طرح بیٹوں کا حق ہے، اسی طرح بیٹیاں بھی اپنے حصے کے تناسب سے مکمل حق دار ہیں، اس لیے کہ والد کے ترکہ میں جس طرح ان کی نرینہ اولاد کا حصہ ہوتا ہے اسی طرح بیٹیوں کا بھی اس میں شرعی حق وحصہ ہوتا ہے، بھائیوں  پر لازم ہے  کہ بہنوں کو ان کا حق وحصہ  اس دنیا میں دے دیں، ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا اور آخرت میں دینا آسان نہیں ہوگا ، حدیثِ مبارک میں اس پر  بڑی وعیدیں آئی ہیں ، حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی،  ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے  حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔

لہذا  بھائیوں کو چاہے جو زمین والد نے ان کو دے دی تھی اور بیٹیوں کو محروم کیا تھا اس کی تلافی کے لیے بھی بہنوں کو  اس میں سے بھی کچھ دے کر راضی کرلیں؛ تاکہ ان کے والد کو بھی آخرت میں پریشانی نہ ہو۔

مشکاۃ  المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌أخذ ‌شبرا ‌من ‌الأرض ‌ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."

(باب الغصب و العارية، الفصل الاول، ج:2، ص، 887، ط: المکتب الاسلامی)

وفیہ ایضاً:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌قطع ‌ميراث ‌وارثه ‌قطع ‌الله ‌ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه."

(باب الوصايا، الفصل الثالث، ج:2، ص:926، ط: المکتب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية."

(کتاب الھبة،ج:5،ص:690، ط :سعید)

فقط و الله اعلم


فتوی نمبر : 144412101085

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں