بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

عذر کی بنا پر تہہ خانے میں جانے کی قدرت نہ ہونے کی صورت میں بالائی منزل پر اقتدا کرنا


سوال

اگر امام تہہ خانے میں نماز پڑھا رہا ہو، پچھلی صف میں جگہ بھی ہو، ایک آدمی عذر کی وجہ سے نیچے نہیں جا سکتا ہو۔ اور اکیلے اوپر امام کی اقتدا میں نماز پڑھ لی تو اس کی نماز درست ہوگی یا نہیں؟

جواب

اگر امام مسجد کے تہہ خانے یا نچلی منزل پر نماز پڑھا رہا ہو اور مسجد کے تہہ خانے یا نچلی منزل میں جگہ ہونے کے باوجود بلا عذر کوئی شخص  بالائی منزل پر امام کی اقتدا کرتا ہے تو ایسا کرنا مکروہ ہے، البتہ نماز ہوجائے گی۔ 

الفتاوى الهندية (1/ 107):

"ويكره للمنفرد أن يقوم في خلال صفوف الجماعة فيخالفهم في القيام والقعود وكذا للمقتدي أن يقوم خلف الصفوف وحده إذا وجد فرجة في الصفوف وإن لم يجد فرجة في الصفوف روى محمد بن شجاع وحسن بن زياد عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لايكره فإن جر أحداً من الصف إلى نفسه وقام معه فذلك أولى. كذا في المحيط وينبغي أن يكون عالماً حتى لاتفسد الصلاة على نفسه. كذا في خزانة الفتاوى".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 656)

'' (و) كره تحريماً (الوطء فوقه، والبول والتغوط)؛ لأنه مسجد إلى عنان السماء''۔

'' (قوله: الوطء فوقه) أي الجماع خزائن؛ أما الوطء فوقه بالقدم فغير مكروه إلا في الكعبة لغير عذر؛ لقولهم بكراهة الصلاة فوقها. ثم رأيت القهستاني نقل عن المفيد كراهة الصعود على سطح المسجد اهـ ويلزمه كراهة الصلاة أيضاً فوقه، فليتأمل، (قوله: لأنه مسجد)، علة لكراهة ما ذكر فوقه. قال الزيلعي: ولهذا يصح اقتداء من على سطح المسجد بمن فيه إذا لم يتقدم على الإمام."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200170

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں