بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

غیر اسلامی ممالک میں مصلی میں اعتکاف کرنا


سوال

ہم بحیرہ ہند میں واقع ایک جزیرہ راڈریگس میں رہائش پذیر ہیں، یہ ایک غیر مسلم ملک ہے،  یہاں مسلمانوں کی آبادی بہت کم ہے ، یہاں کی زمینیں سرکار کی ملکیت ہیں ، سرکار عوام کو پلاٹ لیز Lease پر مہیا کرتی ہیں ، یہاں دو پرانی مسجدیں ہیں، اور دو جماعت خانے ( مصلے) ہیں، جہاں پانچوں وقت اور جمعہ و عیدین کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں ، حکومت ایک صدی کے لیے زمین لیز پر دیتی ہیں اور ایک شرط ہوتی ہے کہ جب حکومت کو زمین کی ضرورت ہوگی، تو حکومت زمین واپس لے سکتی ہے ، تاہم آج تک کوئی زمین واپس لی نہیں گئی،  دریافت یہ کرنا ہے کیا ہم ان جائے نمازوں (مصلوں) کو باقاعدہ مسجد کی حیثیت دے سکتے ہیں اور ماہ رمضان المبارک میں یہاں اعتکاف میں بیٹھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہےکہ امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک جس مسجد میں پانچ وقت کی نمازیں جماعت کے ساتھ ہوتی ہیں وہاں اعتکاف کرناجائز ہے، اورمردوں کے اعتکاف کے لیے ایسی ہی مسجد کا ہونا ضروری ہے؛لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر دو پرانی مسجدوں میں اعتکاف کی ترتیب بنتی ہو، تواِن مسجدوں میں ہی اعتکاف کیاجائے،لیکن اگر یہ مسجدیں دور ہوں،یاکسی اور وجہ سے اِن دو مسجدوں میں اعتکاف میں بیٹھنا مشکل ہو،تو غیر مسلم ملک ہونے کی وجہ سےاِن دومصلوں میں بھی اعتکاف کرنا درست ہوگا، اور دونوں مصلوں کو بھی باقاعدہ مسجد کی حیثیت دینا درست ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے،موجودہ زمانہ میں سابقہ برطانوی قانون کے مطابق ہرزمین 99 سال کے لیے لیز پر دی جاتی ہے پھر اس کے بعد دوبارہ لیز کی رقم ادا کرنا لازم ہوتی ہے؛لہذا یہ قانون وقف کے لیے مانع نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما شرائط صحته فنوعان: نوع يرجع إلى المعتكف، ونوع يرجع إلى المعتكف فيه...وأما الذي يرجع إلى المعتكف فيه: فالمسجد وإنه شرط في نوعي الاعتكاف: الواجب والتطوع؛ لقوله تعالى {ولا تباشروهن وأنتم عاكفون في المساجد} [البقرة: 187] وصفهم بكونهم عاكفين في المساجد مع أنهم لم يباشروا الجماع في المساجد؛ لينهوا عن الجماع فيها فدل أن مكان الاعتكاف هو المسجد ويستوي فيه الاعتكاف الواجب والتطوع؛ لأن النص مطلق."

(كتاب الاعتكاف،فصل شرائط صحة الاعتكاف، ١١٢/٢، ط:مطبعة شركة المطبوعات العلمية بمصر)

فتح القدیر میں ہے:

"ركنه اللبث بشرط الصوم والنية، وكذا المسجد من الشروط أي كونه فيه."

(كتاب الصوم، باب الاعتكاف، ٣٩٠/٢، ط:شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: والمصلى) شمل مصلى الجنازة ومصلى العيد قال بعضهم: يكون مسجدا حتى إذا مات لا يورث عنه وقال بعضهم: هذا في مصلى الجنازة، أما ‌مصلى ‌العيد لا يكون مسجدا مطلقا، وإنما يعطى له حكم المسجد في صحة الاقتداء بالإمام، وإن كان منفصلا عن الصفوف وفيما سوى ذلك فليس له حكم المسجد، وقال بعضهم: يكون مسجدا حال أداء الصلاة لا غير وهو والجبانة سواء، ويجنب هذا المكان عما يجنب عنه المساجد احتياطا. اهـ."

 (کتاب الوقف: ٣٥٦/٤،ط: سعید)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"سوال:بستی میں مسجد تھی، لیکن شہید کر دی گئی ہے، اور دوسری جگہ مدرسے میں نماز باجماعت ادا کرتے ہیں، تو کیا وہاں اعتکاف کر سکتے ہیں؟ اور اعتکاف کرنے سے سنتِ مؤکدہ اعتکاف ادا ہو جائے گا؟

جواب:اگر شہید شدہ مسجد میں اعتکاف کرنا ممکن نہ ہو، اور بستی میں دوسری مسجد ہو، تو وہاں اعتکاف کیا جائے، مدرسے کا اعتکاف معتبر نہ ہوگا ،اگر مسجد نہیں ہے تو صحیح ہو جائے گا ۔انشاء اللہ ۔"

(باب الاعتکاف، 283/7، ط:دار الاشاعت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144509100937

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں