بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

استاذ کو تنخواہ نہ دینے کا حکم


سوال

میں ایک اسکول میں استاد ہوں، ہمارے اسکول نے بچوں سے پوری فیس وصول کی ہے، اور ہم کو چار مہینوں کی تنخواہ نہیں دی ہے، کیا اسکول کی انتظامیہ کے لیے یہ جائز ہے؟ اگر یہ تنخواہ نہیں دیتے تو قرآن و حدیث کے مطابق ان کے لیے کیا وعید ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ استاذ (ٹیچر) اسکول کے لیے اجیرِ خاص ہوتے ہیں، اگر ان کے ساتھ اسکول کا عقدِ اجارہ  ماہانہ یا سالانہ تنخواہ کی بنیاد پر  مقررہے،  اور انہوں نے اس دوران حاضری دی ہے، تو وہ تنخواہ کے بروقت مستحق ہیں، اگر واقعتًا اسکول انتظامیہ  نے مذکورہ اساتذہ کو تنخواہ نہیں دی یا ٹال مٹول کی ہے تو یہ ان کے ساتھ حق تلفی ہونے کی وجہ سے ظلم ہے، حدیث شریف میں ایسے لوگوں کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں، جیسے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم ﷺ سے حدیثِ قدسی روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”اللہ تعالی فرماتے ہیں، قیامت کے دن جن تین آدمیوں کے خلاف میں مدعی ہوں گا ان میں ایک وہ شخص ہے جو کسی کو مزدور رکھے اور اس سے پورا پورا کام لے، مگر مزدوری (تنخواہ) نہ دے۔“

(صحیح البخاري، کتاب البیوع، رقم الحدیث:2227، ج:3، ص:82، ط:دارطوق النجاۃ)

لہذا اسکول کے انتظامیہ پر اپنے اساتذہ کو وقت پر تنخواہ دینا لازم ہے، تاکہ اساتذہ کی حق تلفی نہ ہوجائے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَ اللَّهُ: ثَلاَثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ القِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ "

(صحیح البخاری، کتاب البیوع، رقم الحدیث:2227، ج:3، ص:82، ط:دارطوق النجاۃ)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"قال رَحِمَهُ اللَّهُ ( وَالْخَاصُّ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ بِتَسْلِيمِ نَفْسِهِ في الْمُدَّةِ وَإِنْ لم يَعْمَلْ كَمَنْ اُسْتُؤْجِرَ شَهْرًا لِلْخِدْمَةِ أو لِرَعْيِ الْغَنَمِ ) يَعْنِي الْأَجِيرَ الْخَاصَّ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ بِتَسْلِيمِ نَفْسِهِ في الْمُدَّةِ عَمِلَ أو لم يَعْمَلْ"،

(باب الإجارة، ج:8، ص:51، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144204200766

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں