بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

عشر کے مسائل


سوال

اگر زمین مستاجری (کرایہ)پہ لی ہو تو اس کا عشر کون ادا کرے گا، مالک یا کرایہ دار؟ اور کیا ہر فصل کا عشر الگ الگ ہوگا، مثلاً فصل ربیع اور فصل خریف یا دونوں فصلوں کو ملا کر سالانہ عشر دینا ہوگا؟  فصل کے اخراجات جیسے زمین کا کرایہ،بیج، کھادیں اور پانی جو کہ مستاجر کے ذمے تھیں جب کہ مالک نے سالانہ مقررہ کرایہ لینا ہے۔  گندم کی فصل میں صرف گندم کا عشر دینا ہوگا یا بھوسہ کا بھی عشر دینا ہوگا،کیوں کہ بھوسہ بھی گندم کی طرح فروخت ہوتا ہے؟

جواب

1- زمین کرایہ  پر دینے کی صورت میں اس کا عشر  زمین کے مالک پر ہوگا یا کرایہ دار پر!

اس میں یہ تفصیل ہے کہ زمین کا مالک اگر کرایہ بہت  زیادہ لیتا ہے اور کرایہ دار کو  کم بچت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں عشر  زمین کے مالک کے ذمہ ہوگا، اور اگر  زمین کا مالک کرایہ کم لیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کرایہ دار کو بچت زیادہ ہوتی ہے تو ایسی صورت میں  زمین کا عشر کرایہ دار کے ذمہ لازم ہوگا۔اس زمانے میں کرایہ عموماً   کم ہوتا ہے، اور اس کے مقابلہ میں مستاجر (کرایہ دار) کو بچت زیادہ ہوتی  ہے ، اس لیے موجودہ زمانے میں از روئے فتویٰ عشر  کرایہ دار پر ہوگا۔

2- ہر  فصل پر عشر ادا کرنا لازم ہوگا۔

3- بھوسے پر بھی عشر ہے۔ دونوں کے مجموعے پر عشر ادا کرنا لازم ہے۔

"ویجب العشر عند أبي حنیفه رحمه الله في کل ماتخرجه الأرض من الحنطة والشعیر..." الخ  (عالمگیریة ص ۲۰۴، ج ۱)

"والعشر على المؤجر كخراج موظف، وقالا: على المستأجر كمستعير مسلم. وفي الحاوي : وبقولهما نأخذ.

(قوله: وبقولهما نأخذ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين كالخير الرملي في فتاواه، وكذا تلميذ الشارح الشيخ إسماعيل الحائك مفتي دمشق، وقال: حتى تفسد الإجارة باشتراط خراجها أو عشرها على المستأجر كما في الأشباه، ... فإن أمكن أخذ الأجرة كاملةً يفتى بقول الإمام، وإلا فبقولهما لما يلزم عليه من الضرر الواضح الذي لايقول به أحد". (فتاوی شامی،2/ 334، کتاب الزکاة، باب العشر، فروع في زکاة العشر، ط: سعید)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 326):
"(قوله: وحولان حول) حتى لو أخرجت الأرض مرارًا وجب في كل مرة؛ لإطلاق النصوص عن قيد الحول؛ ولأن العشر في الخارج حقيقةً فيتكرر بتكرره، وكذا خراج المقاسمة؛ لأنه في الخارج، فأما خراج الوظيفة فلايجب في السنة إلا مرةً؛ لأنه ليس في الخارج، بل في الذمة، بدائع، (قوله: لأن فيه معنى المؤنة) أي في العشر معنى مؤنة الأرض: أي أجرتها فليس بعبادة محضة ط". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200986

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں