بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کے مروجہ تبلیغی جماعت میں نکلنے کا حکم


سوال

عورتوں کا مروجہ تبلیغی جماعت میں نکلنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

قرآنِ  کریم میں امہات المؤمنین کو بلا ضرورتِ  شدیدہ گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے، ارشاد باری تعالی ہے:

"{وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى}." [الأحزاب : 33]

ترجمہ:" تم اپنے گھر میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو۔"(بیان القرآن)

مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں خطاب اگر چہ امہات المؤمنین کو ہے لیکن اس سے امت کی تمام خواتین کو آداب سکھائے جا رہے ہیں، اور یہ حکم سب عورتوں کے لیے ہے۔

        یہی وجہ ہے کہ عورت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  نے گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر قراردیا،  اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  سے جب عورتوں نے مردوں کی جہاد میں شرکت اور فضائل حاصل کرنے اور ان فضائل کو حاصل کرنے کی تمنا ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا کہ تم میں سے جو گھر میں بیٹھی رہے وہ مجاہد کا اجر پائے گی،  چناں چہ   حضور  صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کے زمانہ میں  تبلیغ مردوں کی ذمے  داری  تھی،   عورتیں تبلیغ کے لیے  سفر نہیں  کرتی تھیں، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا   صحابہ نے تبلیغ کے لیے عورتوں کو سفر کرنے کا حکم فرمایا، نہ ہی  خود انہیں  تبلیغ کے لیے سفر میں روانہ کیا، جب اس خیر کے زمانے میں یہ صورت حال رہی ہے، تو اس شر اور فتنوں کے زمانے میں عورتوں کو تبلیغ کے لیے سفر کرنا، اگرچہ محرم کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو، کیسے  جائز ہوسکتا ہے؟بلکہ آج کے دور میں  عورتوں کی جماعت کے نکلنے  کی مشروط اجازت دینا بھی فتنوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتاہے، لہذا اس پر فتن دور میں مشروط اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔

باقی رہا یہ سوال کہ  تبلیغ کے بغیر عورتوں کو دین کے احکام کس طرح معلوم ہوں گے؟  تو شریعت نے   عورتوں  کی دیگر ضروریات کی طرح ان کی تعلیم، تربیت اور دینی ضروریات کی  ذمہ داری  بھی  ان کے محرم  مردوں پرلازم کی   ہے کہ وہ  دین کے احکام ان کو سکھائیں ، مرد خود اگر دین کی بات نہیں جانتے تو  علماء سے سیکھیں اور اپنی محرم خواتین کو سکھائیں ،  اگر گھر کے مرد اس حوالے سے کوتاہی کر رہے ہوں تو مستورات سے علاقہ میں ہی سیکھنے کی اجازت ہے، بشرط یہ کہ مکمل پردے کی رعایت رکھی جائے، اسی طرح خواتین  کی  اصلاح اور دینی تربیت کے لیے علاقہ کے کسی گھر میں باپردہ اہتمام کے ساتھ مستند متدین عالم کی وعظ و نصیحت کی مجلس رکھی جا سکتی ہے،  جس میں خواتین شرکت کرسکتی ہیں،  ایسا کرنا خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی ثابت ہے کہ خواتین نے حضور صلی اللہ علیہ سلم  کی خدمت میں درخواست کی تھی تو ان کے لیے مخصوص دن اور مخصوص جگہ میں اجتماع تجویز فرما دیا گیا تھا، صحیح بخاری میں روايت  ہے كه :

"عن أبي سعيد الخدري: قال النساء للنبي صلى الله عليه وسلم: غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك، فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وأمرهن، فكان فيما قال لهن: (ما منكن امرأة تقدم ثلاثة من ولدها، إلا كان لها حجابا من النار). فقالت امرأة: واثنين؟ فقال: (واثنين)."

(كتاب العلم،  باب: هل يجعل للنساء يوم على حدة في العلم، ج:1، ص:50، رقم:101، ط:دار ابن كثير)

ترجمہ:"ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے فائدہ اٹھانے میں) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے (وعظ کے) لیے (بھی) کوئی دن خاص فرما دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا۔ اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انہیں وعظ فرمایا اور (مناسب) احکام سنائے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جو کوئی عورت تم میں سے (اپنے) تین (لڑکے) آگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لیے دوزخ سے پناہ بن جائیں گے۔ اس پر ایک عورت نے کہا، اگر دو (بچے بھیج دے) آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں! اور دو (کا بھی یہ حکم ہے) ۔"

تفسير القرطبي ميں ہے:

"قوله تعالى: (وقرن في بيوتكن ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى) فيه أربع مسائل... الثانية- معنى هذه الآية الأمر بلزوم البيت، وإن كان الخطاب لنساء النبي صلى الله عليه وسلم فقد دخل غيرهن فيه بالمعنى. هذا لو لم يرد دليل يخص جميع النساء، كيف والشريعة طافحة بلزوم النساء بيوتهن، والانكفاف عن الخروج منها إلا لضرورة، على ما تقدم في غير موضع. فأمر الله تعالى نساء النبي صلى الله عليه وسلم بملازمة بيوتهن، وخاطبهن بذلك تشريفا لهن، ونهاهن عن التبرج، وأعلم أنه فعل الجاهلية الأولى."

(سورة الأحزاب، ج:14، ص:178-179، ط:دار الكتب المصرية)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

" يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ﴿الأحزاب: ٣٢﴾وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ﴿الأحزاب: ٣٣﴾وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا ﴿الأحزاب: ٣٤﴾

هذه آداب أمر الله تعالى بها نساء النبي صلى الله عليه وسلم، ونساء الأمة تبع لهن في ذلك ... 

وقوله: {وقرن في بيوتكن} أي: الزمن بيوتكن فلا تخرجن لغير حاجة. ومن الحوائج الشرعية الصلاة في المسجد بشرطه، كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تمنعوا إماء الله مساجد الله، وليخرجن وهن تفلات" وفي رواية: "وبيوتهن خير لهن"

وقال الحافظ أبو بكر البزار: حدثنا حميد بن مسعدة  حدثنا أبو رجاء الكلبي، روح بن المسيب ثقة، حدثنا ثابت البناني عن أنس، رضي الله عنه، قال: جئن النساء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن: يا رسول الله، ذهب الرجال بالفضل والجهاد في سبيل الله تعالى، فما لنا عمل ندرك به عمل المجاهدين في سبيل الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قعد -أو كلمة نحوها -منكن في بيتها فإنها تدرك عمل المجاهدين  في سبيل الله".

ثم قال: لا نعلم رواه عن ثابت إلا روح بن المسيب، وهو رجل من أهل البصرة مشهور.

وقال البزار أيضا: حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، عن قتادة، عن مورق، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان، وأقرب ما تكون بروحة ربها وهي في قعر بيتها.

ورواه الترمذي، عن بندار، عن عمرو بن عاصم، به نحوه ."

(سورة الأحزاب، ج:6، ص:408-409، ط:دار طيبة)

عمدة القاري میں ہے:

"بيان استنباط الأحكام: الأول: فيه سؤال النساء عن أمر دينهن وجواز كلامهن مع الرجال في ذلك، وفيما لهن الحاجة إليه."

(كتاب العلم، باب: هل يجعل للنساء يوم على حدة في العلم، ج:2، ص:134، ط:دار الفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144501102455

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں