بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کی آواز میں نعت، تقاریر و دیگر اصلاحی بیانات سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا


سوال

 عورتوں کی آواز میں نعت نظم تقاریر و دیگر اصلاحی بیانات سوشل میڈیا (یوٹیوب وغیرہ پر ) ڈال سکتے ہیں یا نہیں؟ 

جواب

عورت کے لیے ضرورت کے موقع پر مردوں سے بات کرنا جائز ہے، اس لیے کہ راجح قول کے مطابق عورت کی آواز ستر میں داخل نہیں ہے  لیکن عوارض کی وجہ سے بعض جائز اُمور کا ناجائز ہوجانا فقہ میں معروف و مشہور ہے،  اِس لیے اگر شرعی ضرورت نہ ہو تو چوں کہ فتنہ کا غلبہ ہے، اس لیے عورت کی آواز کا بھی غیر محرم سے پردہ ہے۔

نیز عورت کا غیر محرم سے  ضرورت اور مجبوری کی صورت میں بات  کرنے کے لیے  بھی یہ ضروری ہے وہ اپنی آواز کو پرکشش نہ بنائے، نرم لہجہ میں بات نہ کرے، بلکہ سخت لہجے میں بات کرے، مختصر بات کرکے بات ختم کردے، جیساکہ قرآنِ پاک  (سورہ احزاب) میں ازواجِ مطہرات  رضی اللہ عنہن کو  (امہات المؤمنین ہونے کےباجود) ہدایت کی گئی کہ اگر کسی امتی سے بات چیت کی نوبت آجائے تو نرم گفتگو نہ کرے؛ مبادا اس شخص کے دل میں کوئی طمع نہ پیدا ہوجائے جو دل کا مریض ہو، بلکہ صاف اور دوٹوک بات کہے۔

اسی طرح شریعت مطہرہ میں کسی شدید ضرورت کے بغیر  جان دار کی تصویر سازی، اسی طرح جان دار کی تصاویر پر مشتمل ویڈیو  بنانا جائز نہیں ہے، خواہ وہ دین کی تشہیر کے لیے کیوں نہ ہو۔ 

لہذا صورتِ مسئولہ میں عورت کی آواز میں نعت، نظم اور بیانات  کی ویڈیو بناکر کرکے سوشل میڈیا اس کو اَپ لوڈ کرنے میں درج ذیل خرابیاں موجود ہیں:

1۔۔   اس میں جان دار کی تصویر سازی اور ویڈیو سازی  ہے جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

2۔۔  وہ ویڈیوز مرد بھی دیکھیں گے، اور نامحرم کو دیکھنا جائز نہیں ہے، اس لیے اس کا سبب بننا بھی جائز نہیں ہے۔

3۔۔ وہ نعتیں، نظمیں مرد بھی سنیں گے، اور نامحرم عورتوں کے لیے مردوں کو خود  نعتیں اور نظمیں سنانا جائز نہیں ہے، اور کسی دینی ضرورت کے بغیر عورتوں کے لیے مردوں کو   بیانات سنانے اور مسائل بتانے  کی بھی اجازت نہیں ہے۔

4۔۔  یہ بلا ضرورت عورت کی آواز مردوں کو سنانا ہے۔

5۔۔   نعت اور نظم  میں عمومًا آواز کو نرم  اور پرکشش بنایا جاتا ہے، جب کہ عورتوں کو یہ حکم ہے  کہ  ضرورت کے موقع پر بھی مردوں  سے بات کریں تو لہجے میں نرمی اور کشش پیدا نہ کریں۔

6۔۔ اور اگر اس میں میوزک بھی شامل ہو تو یہ ایک مزید قباحت ہے، اور اس کی ناجائز ہونے کی ایک مستقل وجہ ہے۔

لہذا عورت کی آواز میں نعت، نظم اور بیانات  کی ویڈیو بناکر کرکے سوشل میڈیا اس کو اَپ لوڈ کرنا جائز نہیں ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن عبد الله، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة المصورون»".

(صحيح البخاري: كتاب اللباس، باب عذاب المصورين، رقم:5950،  ص: 463، ط: دار ابن الجوزي)

فتاوی شامی میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ".

( كتاب الصلاة، مطلب: مكروهات الصلاة، 1/647، ط: سعيد)

احکام القرآن میں ہے:

وقَوْله تَعَالَى :{ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ } رَوَى أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : ( هُوَ الْخَلْخَالُ ) ، وَكَذَلِكَ قَالَ مُجَاهِدٌ : ( إنَّمَا نُهِيت أَنْ تَضْرِبَ بِرِجْلَيْهَا لِيُسْمَعَ صَوْتُ الْخَلْخَالِ ) وَذَلِكَ قَوْلُهُ : { لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ } .
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَدْ عُقِلَ مِنْ مَعْنَى اللَّفْظِ النَّهْيُ عَنْ إبْدَاءِ الزِّينَةِ وَإِظْهَارِهَا لِوُرُودِ النَّصِّ فِي النَّهْيِ عَنْ إسْمَاعِ صَوْتِهَا ؛ إذْ كَانَ إظْهَارُ الزِّينَةِ أَوْلَى بِالنَّهْيِ مِمَّا يُعْلَمُ بِهِ الزِّينَةُ ، فَإِذَا لَمْ يَجُزْ بِأَخْفَى الْوَجْهَيْنِ لَمْ يَجُزْ بِأَظْهَرِهِمَا ؛ وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ الْقَوْلِ بِالْقِيَاسِ عَلَى الْمَعَانِي الَّتِي قَدْ عَلَّقَ الْأَحْكَامَ بِهَا ، وَقَدْ تَكُونُ تِلْكَ الْمَعَانِي تَارَةً جَلِيَّةً بِدَلَالَةِ فَحْوَى الْخِطَابِ عَلَيْهَا وَتَارَةً خَفِيَّةً يُحْتَاجُ إلَى الِاسْتِدْلَالِ عَلَيْهَا بِأُصُولٍ أُخَرَ سِوَاهَا .
وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْأَةَ مَنْهِيَّةٌ عَنْ رَفْعِ صَوْتِهَا بِالْكَلَامِ بِحَيْثُ يَسْمَعُ ذَلِكَ الْأَجَانِبُ ؛ إذْ كَانَ صَوْتُهَا أَقْرَبَ إلَى الْفِتْنَةِ مِنْ صَوْتِ خَلْخَالِهَا ؛ وَلِذَلِكَ كَرِهَ أَصْحَابُنَا أَذَانَ النِّسَاءِ ؛ لِأَنَّهُ يُحْتَاجُ فِيهِ إلَى رَفْعِ الصَّوْتِ وَالْمَرْأَةُ مَنْهِيَّةٌ عَنْ ذَلِكَ ، وَهُوَ يَدُلُّ أَيْضًا عَلَى حَظْرِ النَّظَرِ إلَى وَجْهِهَا لِلشَّهْوَةِ ؛ إذْ كَانَ ذَلِكَ أَقْرَبَ إلَى الرِّيبَةِ وَأَوْلَى بِالْفِتْنَةِ."

(احکام القرآن للجصاص، ج:3، ص:465، ط:مکتبة رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"وصوتها على الراجح وذراعيها على المرجوح.

(قوله: وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله: على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام: «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلايحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولاتلبي جهرًا لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها، ولهذا منعها عليه الصلاة والسلام من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق اهـ وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الإمداد؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة." (1 / 406)

امداد الفتاوی میں ہے:

سوال  :  میں نے اپنے گھر میں عرصہ سے تجوید بقدر احتیاج سکھائی ہے،  اللہ کا شکرہے باقاعدہ پڑھنے لگی ہیں، جن لوگوں کو اِس اَمر کی اِطلاع ہے وہ کبھی آکر یوں کہتے ہیں کہ ہم سننا چاہتے ہیں، اور ہیں معتمد لوگ ، تو  پردہ میں  سنوا دینا جائز ہے یا نہیں  ؟  اگرچہ ایسا کیا نہیں،  بعد علم جیسا ہوگا ویسا کروں گا۔

 

الجواب  :  ہرگز جائز نہیں۔  لِاَنَّه اِسْمَاعُ صَوْت الْمَرْأَةِ بِلا ضرورة شرعیة( کیونکہ یہ عورت کی آواز کو بغیر شرعی ضرورت کے سنانا ہے)( امداد الفتاوی، 4/200، ط: دارالعلوم کراچی) 

فقط واللہ اعلم

 

 


فتوی نمبر : 144205201210

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں