بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

عورت کی شرم گاہ سے پیلا اور سفید پانی نکلتا ہو تو غسل کا کیا حکم ہے؟


سوال

مجھے ہر وقت یہ لگتا ہے کہ نکلنے والا مادہ منی ہے۔ میں جان بوجھ کر لذت حاصل نہیں  کرتی، اگر کوئی خیال آ بھی جائے تو اس کو نکالنے کی کوشش کرتی ہوں، پھر بھی اگر کوئی مادہ نکلے تو اس کے لیے غسل کا کیا حکم ہے؟کبھی سفید اور کبھی پیلا مادہ نکلتا ہے اور جو پیلا ہو وہ گاڑھا ہوتا ہے!

جواب

واضح رہے کہ شرم گاہ سے نکلنے والا مادہ یا تو "منی" ہوگا، یا "مذی" یا "ودی"۔

"منی" وہ گاڑھا مادہ ہے جو  کود کر شہوت اور لذت کے ساتھ  اگلی شرم گاہ سے خارج ہوتاہے، خواہ جماع کے وقت ہو یا اس کے  علاوہ کسی حالت میں ہو، اور مرد کی منی گاڑھی اور سفید رنگ کی ہوتی ہے اور عورتوں کی منی مرد کی بنسبت پتلی اور زرد رنگ کی گولائی والی ہوتی ہے، تر ہونے کی صورت میں اس میں خرما کے شگوفہ جیسی بو اور چپکاہٹ ہوتی ہے، اور خشک ہوجانے کے بعد انڈے کی بو ہوتی ہے، منی نکلنے کے بعد شہوت ختم ہوجاتی ہے، جب منی  شہوت کے  ساتھ کود  کر نکلی ہو تو  اس کے  نکلنے  سے غسل واجب ہے،  لیکن اگر شہوت کے بغیر کسی بھی وجہ  (کم زوری، بیماری یا جھٹکا وغیرہ لگنے کی وجہ) سے منی نکل آئے تو اس سے غسل واجب نہیں ہوتا، البتہ سوتے وقت احتلام کی وجہ سے منی نکلنے کی صورت میں اگرچہ لذت اور شہوت محسوس نہ ہوئی ہو  تب بھی غسل واجب ہوجائے گا۔

"مذی"  پتلی  سفیدی  مائل  (پانی کی رنگت کی طرح)  ہوتی ہے اور  اس کے نکلنے کا احساس بھی نہیں ہوتا، اس کے نکلنے پر شہوت قائم رہتی ہے اور جوش کم نہیں ہوتا، بلکہ شہوت میں  مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے نکلنے سے غسل فرض نہیں ہوتا، البتہ اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتاہے، اور  نماز و دیگر عبادات، جیسے قرآن مجید کی تلاوت وغیرہ کے لیے وضو کرنا ضروری ہوتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 159):

"(وفرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو وإلا فلا يفرض اتفاقا؛ لأنه في حكم الباطن (منفصل عن مقره) هو صلب الرجل وترائب المرأة، ومنيه أبيض ومنيها أصفر، فلو اغتسلت فخرج منها مني، وإن منيها أعادت الغسل لا الصلاة وإلا لا (بشهوة) أي لذة ولو حكمًا كمحتلم، ولم يذكر الدفق ليشمل مني المرأة؛ لأن الدفق فيه غير ظاهر، وأما إسناده إليه أيضا في قوله {خلق من ماء دافق} [الطارق: 6] الآية، فيحتمل التغليب فالمستدل بها كالقهستاني تبعا لأخي جلبي غير مصيب تأمل؛ ولأنه ليس بشرط عندهما خلافًا للثاني.

(قوله: من العضو) هو ذكر الرجل وفرج المرأة الداخل احترازا عن خروجه من مقره ولم يخرج من العضو بأن بقي في قصبة الذكر أو الفرج الداخل، أما لو خرج من جرح في الخصية بعد انفصاله عن مقره بشهوة فالظاهر افتراض الغسل. وليراجع. (قوله: وترائب المرأة) أي عظام صدرها كما في الكشاف. (قوله: ومنيه أبيض إلخ) وأيضًا منيه خاثر ومنيها رقيق ... (قوله: بشهوة) متعلق بقوله: منفصل، احترز به عما لو انفصل بضرب أو حمل ثقيل على ظهره، فلا غسل عندنا خلافًا للشافعي كما في الدرر. (قوله: كمحتلم) فإنه لا لذة له يقينًا لفقد إدراكه ط فتأمل. وقال الرحمتي: أي إذا رأى البلل ولم يدرك اللذة؛ لأنه يمكن أنه أدركها ثم ذهل عنها فجعلت اللذة حاصلة حكمًا.
(قوله: ولم يذكر الدفق) إشارة إلى الاعتراض على الكنز حيث ذكره، فإنه في البحر زيف كلامه وجعله متناقضا، وقد أجبنا عنه فيما علقناه على البحر. ولايخفى أن المتبادر من الدفق هو سرعة الصب من رأس الذكر لا من مقره. وأما ما أجاب به في النهر عن الكنز من أنه يصح كونه دافقًا من مقره بناء على قول ابن عطية: إن الماء يكون دافقًا أي حقيقةً لا مجازًا؛ لأن بعضه يدفق بعضًا، فقد قال صاحب النهر نفسه: إني لم أر من عرج عليه، فافهم. (قوله: غير ظاهر) أي لاتساع محله. (قوله: وأما إسناده إلخ) أي إسناد الدفق إلى مني المرأة أيضًا أي كإسناده إلى مني الرجل. (قوله: فيحتمل التغليب) أي تغليب ماء الرجل لأفضليته على ماء المرأة. (قوله: فالمستدل بها) أي بالآية على أن في منيها دفقًا أيضًا.
(قوله: تأمل) لعله يشير إلى إمكان الجواب؛ لأن كون الدفق منها غير ظاهر يشعر بأن فيه دفقًا وإن لم يكن كالرجل، أفاده ابن عبد الرزاق."

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144111201714

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں