بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الاول 1443ھ 26 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اونٹ یا گائے میں سات حصے ہونے کی وجہ


سوال

اونٹ یا گائے کی قربانی میں  سات  حصے کیوں کیے جاتے ہیں؟

جواب

قربانی کے بڑے جانور  مثلا گائے، بیل اور اونٹ وغیرہ میں سات حصے ہونا خود رسول اللہ ﷺ کے قول اور عمل سے ثابت ہے،  حدیثِ مبارک میں آتا ہے کہ ” اونٹ سات لوگوں کی طرف سے کافی ہوجائے گا اور گائے سات لوگوں کی طرف سے کافی ہوجائے گی“ ، اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اونٹ اور گائے   سات، سات لوگوں  کی طرف سے قربان کی۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 70) :

"و لايجوز بعير واحد و لا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، و يجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء.

وقال مالك - رحمه الله -: يجزي ذلك عن أهل بيت واحد - و إن زادوا على سبعة -، و لايجزي عن أهل بيتين - و إن كانوا أقل من سبعة -، و الصحيح قول العامة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: «البدنة تجزي عن سبعة و البقرة تجزي عن سبعة»۔ و عن جابر - رضي الله عنه - قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة و البقرة عن سبعة»، من غير فصل بين أهل بيت وبيتين؛ و لأن القياس يأبى جوازها عن أكثر من واحد؛ لما ذكرنا أن القربة في الذبح وأنه فعل واحد لايتجزأ؛ لكنا تركنا القياس بالخبر المقتضي؛ للجواز عن سبعة مطلقاً، فيعمل بالقياس فيما وراءه؛ لأنّ البقرة بمنزلة سبع شياه."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200987

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں