بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

یو نائیٹڈ بینک لمیٹڈ اور اس جیسے دیگر بینکوں میں انویسٹمنٹ کا حکم


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ یو نائیٹڈ بینک لمیٹڈ اور اس جیسے دیگر بینک صارفین کو سرمایہ کاری کی پیشکش کرتے ہیں۔ صارف جب رقم انوسٹ کرتا ہے تو بینک اس رقم سے ٹریڈنگ کر کے اس ٹریڈنگ کے نتیجے میں حا صل ہونے والا منافع طے شدہ فیصد کے حساب سے صارف کو دیتا ہے۔ جیسا کہ اگر صارف نے ایک لا کھ روپیہ انویسٹ کیا تو مطلوبہ بینک صارف کو 7 فیصد منافع دے گا جبکہ صارف  کی اصل رقم محفوظ رہے گی ۔صارفین کو کتنے فیصد منافع ملنا چا ہئے؟ یہ اسٹیٹ بینک طے کرتا ہے، اور جب تک اسٹیٹ بینک کی شرح منافع میں تبدیلی نہیں ہوتی، صارف کو اتنا ہی منافع ملے گا، جیسا کہ ایک سال تک 7 فیصد ملتا رہا ،جبکہ دوسرے سال پالیسی بدل گئی، اب 10 فیصد یا کم مل رہا ہے۔ کیا ایسا منافع حلال ہے چاہے اسلامک بینک سے کیو ں نہ ہو؟

جواب

واضح رہے کہ بینک میں سودی کاروبار ہوتا ہے اور بینک میں انویسٹ کرنا سودی کاروبار میں معاون بننا ہے اور اس سے نفع لینا سود سے نفع لینا ہے اور  آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سودلینے ، دینے، لکھنے، گواہ بننے والوں ، جملہ معاونین پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ گناہ میں سب برابر ہیں، اور قرآن میں سود کی معاملات کرنے والے کو اللّٰہ اور اس کی رسول سے جنگ کا اعلان بتایا ہے ،لہذا کسی بھی بینک کے ساتھ کسی بھی قسم کا تمویلی معاملہ کرنا، کاروباری معاملے کرنا شرعاً نا جائز ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴿  ٢٧٨﴾ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴿البقرة:٢٧٩﴾

ترجمہ: اے ایمان والوں، اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔ پھر اگر تم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے اور اگر تم توبہ کر لو گے تو تم کو تمہارے اصل مل جاویں گے نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر کویہ ظلم کرنے پائے گا۔(بیان القرآن)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم اٰكل الربوا و موكله و كاتبه و شاهديه و قال هم سواء."

ترجمہ:حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا یہ سب گناہ میں برابر ہیں _

(صحيح مسلم -كتاب المساقات و المزارعة -باب الربا، 2/34، رحمانیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100141

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں