بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

چار انگل کی مقدار قدیم اور جدید اوزان کے اعتبار سے


سوال

بعض مسائل شرعی میں چارانگل کاذکرآتاہےو اس سےکیامرادہے؟ اگرانچ کےلحاظ سےراہنمائی ہوسکےتونوازش ہوگی!

جواب

شرعی مسائل میں جہاں "انگل" کا ذکر ہوتا ہے (جیسے کہ داڑھی کا حکم ہے کہ ایک مٹھی یعنی چار انگل تک داڑھی چھوڑنا واجب ہے) اس انگل کو عربی میں "اصبع" کہتے ہیں، اور اصبع کی مقدار قدیم پیمائش، برطانوی (ہندی) پیمائش، اور جدید اعشاری نظام کے اعتبار سے مندرجہ ذیل ہے:

قدیم پیمائش کے اعتبار سے اصبع (یعنی انگل) کی مقدار درمیانی قد والے انسان کی چار انگلیاں ملاکر رکھی جائے اور انگوٹھا اس کے ساتھ شامل نہ کیا جائے، بالفاظِ دیگر ایک انگلی کی مقدار جَو کے ایسے چھ دانوں کی مقدار ہے جو درمیانی سائز کے ہوں اور چوڑائی میں رکھے جائیں۔

برطانوی (ہندی) پیمائش کے اعتبار سے چار اصبع  تین انچ کے برابر ہوتے ہیں، اس حساب سے ایک اصبع ( انگل) 0.75 انچ یعنی پونے ایک انچ کا ہوتا ہے، اور جدید اعشاری نظام کے اعتبار سے ایک اصبع (انگل) 1.905 سینٹی میٹر کا ہوتا ہے۔ (اوزانِ شرعیہ للمفتی علامہ محمد شفیعؒ، ص:44، ط:ادارۃ المعارف کراچی/ ثمرۃ الاوزان لمولانا ثمیرالدین قاسمی، ص:42، ط:مکتبہ ثمیر مانچسٹرانگلینڈ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200201

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں