بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عمرے میں جاکر اعتکاف کرنا


سوال

میں اور میرے شوہر ان شااللہ عمرے  کے لیے جارہے ہیں، ہم وہاں اعتكاف کرنا چاہتے ہیں ،مگر ہمارے لیے  اس صورت میں کیا کرنا بہتر ہے؟ کہ ہم دو  کے سوا کوئی ساتھ نہیں ہے!

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی مرد اعتکاف کرنا چاہے تو اس کے لیے مسجد میں  اعتکاف کرنا لازم ہے، لیکن اگر کوئی  عورت اعتکاف کرنا چاہے تو  وہ شوہر کی اجازت سے  گھر میں ایک جگہ نماز کے لیے مخصوص کرکے وہی پر اعتکاف کرے   اور ضرورت اور حاجات کے سوا اس احاطے سے نہ نکلے،اور عورت کا مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہ ہے،اور  عورت کو  گھر میں  اعتکاف کرنے کی صورت   میں وہی ثواب ملتا ہے  جتنا ثواب ایک مرد  کو مسجد میں اعتکاف کرنے کی صورت میں ملتا ہے۔

لہذا صورتِ  مسئولہ   اگر آپ لوگ    عمرے میں جا کر اعتکاف  کرنا  چاہیں تو  آپ کے شوہر مسجد حرام یا مسجد نبوی میں اعتکاف کریں اور آپ ہوٹل کے کمرے میں اعتکاف کرسکتی ہیں،مسجد حرام یا مسجد نبوی میں نہیں۔

درر الحكام شرح غرر الأحكام میں ہے:

"(قوله: و شرعًا لبث رجل. . . إلخ) اللبث بضم اللام وفتحها وتخصيص المصنف الرجل بالمسجد والمرأة بالبيت إنما هو على المطلوب من المرأة؛ لأنها لو ‌اعتكفت ‌في ‌المسجد صح ولكنه يكره صرح بالكراهة في الفتح ومسجد البيت المحل الذي أعد للصلاة فيه، وهو مندوب لكل أحد قال الله تعالى: {واجعلوا بيوتكم قبلة} [يونس: 87] كذا في البزازية (قوله: في مسجد جماعة) أي هو شرط لاعتكاف الرجال، وهذا على رواية اشتراط مسجد تقام فيه الصلوات الخمس بجماعة، وهي المختارة."

(باب الاعتكاف ،أقل الاعتكاف،212/1،ط:دار إحياء الكتب العربية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والمرأة تعتكف في مسجد بيتها إذا ‌اعتكفت ‌في ‌مسجد ‌بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل لا تخرج منه إلا لحاجة الإنسان كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي. ولو اعتكفت في مسجد الجماعة جاز ويكره هكذا في محيط السرخسي."

(كتاب الصوم،الباب السابع في الاعتكاف،211/1،ط: رشيدية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولا تشترط الذكورة والحرية ‌فيصح ‌من ‌المرأة والعبد بإذن المولى والزوج، إن كان لها زوج؛ لأنهما من أهل العبادة، وإنما المانع حق الزوج والمولى، فإذا وجد الإذن فقد زال المانع."

(كتاب  الاعتكاف،فصل شرائط صحة الاعتكاف،108/2،ط:سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما المرأة إذا ‌اعتكفت ‌في ‌مسجد ‌بيتها لا تخرج منه إلى منزلها إلا لحاجة الإنسان؛ لأن ذلك في حكم المسجد لها على ما بينا."

(كتاب  الاعتكاف،فصل ركن الاعتكاف،114/2، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144409100631

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں