بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

عمرے کے سفر میں روزے کا حکم


سوال

میں پہلے  رمضان کو مکہ سے مدینہ جا رہا ہوں اور چوتھے  رمضان کو واپسی ہے،احرام میں روزہ رکھنا ضروری ہے ؟

جواب

اگر عمرے کے سفر میں  ایک ہی جگہ پندرہ دن  تک قیام کا ارادہ نہیں ہے، تو ایسا شخص شرعاً مسافر ہے اور مسافر کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے دونوں کا اختیار ہے، اور نہ رکھنے کی صورت میں بعد میں اس روزہ کی قضا لازم ہوگی، تاہم  اگر سفر کے دوران روزہ رکھنے  میں  سہولت ہے، دشواری نہیں  ہے تو روزہ رکھنا بہتر ہے، اگر روزہ رکھنے میں مشقت اور دشواری ہے تو  اس صورت میں روزہ نہ رکھنے کی بھی اجازت ہےاور بعد میں اس روزہ کی قضا کرلے۔

فتاوی شامی   میں ہے:

"(ويندب لمسافر الصوم) لآية - {وأن تصوموا} [البقرة: 184]- والخير بمعنى البر لا أفعل تفضيل (إن لم يضره) فإن شق عليه أو على رفيقه فالفطر أفضل لموافقته الجماعة ."

(کتاب الصوم ، فصل فی العوارض المبیحة لعدم الصوم جلد ۲ ص : ۴۲۳ ط : دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508102619

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں