بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

امت محمدیہ کا الگ حساب کتاب


سوال

 ایک صاحب  کا کہنا ہے  کہ قیامت کے دن الله تعالیٰ ، ساری امتوں سے لوگوں کے سامنے حساب کتاب کرے گا اور امت محمدیہ سے علیحدہ حساب کتاب کرے گا ۔ کیا اس  بات کی کوئی حقیقت  ہے ؟

جواب

جس  بات  کے بارے میں سوال میں دریافت کیا گیا ہے ،  اس    کے قریب قریب الفاظ میں دو روایات امام سیوطی   نے "ذیل اللآلی المصنوعۃ "میں اور انہی سے  علامہ محمد بن  طاہر پٹنی نے"تذکرۃ الموضوعات " میں ان دونوں  روایات کے ساتھ ساتھ ایک تیسری روایت بھی ذکر کی ہے ۔ اور ان سب  کو منگھڑت روایات  میں شمار کیا ہے۔لہذا  ایسی روایات کے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

۱- "الديلمي: أخبرنا فيد أخبرنا أبو مسلم بن غزو عن الحسين بن محمد التميمي عن أبي بكر النقاش عن الحسن بن الصقر عن يوسف بن كثير عن داود بن المنذر عن بشر بن سليمان الأشعثي عن الأعرج عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سألت الله عز وجل أن يجعل حساب أمتي إلي لئلا تفتضح عند الأمم، فأوحى الله إِليَّ: يا محمد! بل أنا أحاسبهم، فإن كان منهم زلة سترتُها عنك؛ لئلا تفتضح عندك.

النقاش متهم."

(ذيل اللآلي المصنوعة، مكتبة المعارف، الرياض، تحقيق: رامز خالد حاج حسن، الطبعة الأولى، 1431ه-2010م، 709/2، الرقم: 873)

ترجمہ:

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ میری امت کا حساب میرے حوالے کردیں؛ تاکہ میری امت دیگر امتوں کے سامنے رسوا نہ ہو۔ تو اللہ نے میری طرف وحی بھیجی کہ : اے محمد ، ان کا حساب کتاب تو میں لوں گا، اگر ان کی کچھ لغزشیں ہوں گی تو  میں آپ سے  بھی انہیں پردہ میں رکھوں گا؛ تاکہ وہ آپ کے سامنے رسوا نہ ہوں"۔

۲- قال ابن النجار: كتب إلي يوسف بن هبة الله الدمشقي، أخبرنا أبو القاسم محمود بن الفرج بن أبي القاسم المقرئ الكرخي، أخبرنا أبو حفص عمر بن أبي بكر المقرئ، أخبرنا أبو الصفا تامر بن علي، أخبرنا أبو منصور محمد بن علي بن محمد الأصبهاني المذكر، أخبرنا محمد بن أحمد بن إبراهيم القاضي، حدثنا محمد بن أيوب الرازي، حدثنا القعنبي عن سلمة بن وردان عن ثابت البناني عن أنس مرفوعا: ليلة أسري بي إلى السماء سألت الله عز وجل فقلت: إلهي وسيدي، اجعل حساب أمتي على يدي؛ لئلا يطلع على عيوبهم أحد غيري. فإذا النداء من العلي : يا أحمد إنهم عبادي لا أحب أن أطلعك على عيوبهم. فقلت: إلهي وسيدي ومولاي، المذنبون من أمتي. فإذا النداء من العلي: يا أحمد إذا كنت أنا الرحيم، وكنت أنت الشفيع، فأين تبين المذنبون بيننا؟. فقلت: حسبي حسبي.

محمد بن أيوب الرازي كذاب".

(ذيل اللآلي المصنوعة، مكتبة المعارف، الرياض، تحقيق: رامز خالد حاج حسن، الطبعة الأولى، 1431ه-2010م، 708/2، الرقم: 872)

۳- "سأل ربه في ذنوب أمته؟ فقال: يا رب، اجعل حسابهم إلي؛ لئلا يطلع على مساويهم غيري، فأوحى الله عزوجل: هم أمتك وهم عبادي، وأنا أرحم بهم منك، لا أجعل حسابهم إلى غيري؛ لئلا تنظر في مساويهم أنت ولا غيرك.

ثم قال الفتني: لم يوجد".

(تذكرة الموضوعات، محمد طاهر الفتني، إدارة الطباعة المنيرية، 226، 227)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502101664

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں