بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

امیّہ الہی نام رکھنا


سوال

’’امیہ الہی‘‘  نام رکھنا کیسا ہے ؟

جامعہ کی ویب سائٹ پر ’’امیہ‘‘  کا لفظی مطلب اللہ کی چھوٹی سی بندی تحریر ہے۔ جب کہ ایسا اور کسی ریفرنس   سے تصدیق نہیں ہوا،  مہربانی فرما کر اصلاح فرمائیں!

جواب

امیہ( الف پر پیش، میم پر زبر، یاء مشددزبر کے ساتھ ’’أُمَیَّه‘‘)  ’’امۃ‘‘  کی تصغیر ہے جس کے معنی بندی کے ہیں،  جیسے عبد  کے معنی بندہ کے آتے ہیں، ’’امیہ الہی‘‘  نام رکھ  سکتے  ہیں۔

معجم المعاني الجامع - معجم عربي عربي:

"أُمَيّة: (اسم) أُمَيَّةُ : مصغَّر الأَمَةِ. و (بنو أُمَيَّة): بطن من قريش ينتسبون إِلى أمية بن عبد شمس، والنسبة إليهم أُمويّ على القياس، وأَمَوِيٌّ على السّماع". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200272

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے