بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

علماء کو برا بھلا کہنے کا حکم


سوال

 آج کل لوگ علماء اور حفاظ کرام کو گالیاں دیتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ ان کے دینی معاملات یعنی ان کے عبادات ،شرعی لباس،داڑھی ،پگڑی وغیرہ نہیں، بلکہ ان کے دنیاوی معاملات ہوتے ہیں، یعنی ان کا کاروباری لین دین،سیاسی معاملات،،رشتہ داریاں،والدین سے بد سلوکی وغیرہ،  تو کیا ایسی صورت میں علماء پر تنقید ،اعتراض، یا برا بلا کہنے میں گناہ یا ایمان میں فرق آنے کا اندیشہ ہے یا نہیں؟

جواب

علم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے بر گزیدہ بندوں کو اس نعمتِ عظمیٰ سے مالا مال فرماتے ہیں، علمائے کرام و حفاظِ قرآن کریم کو اگر ان کے علم و حفظ کی بنا پر برا بھلا کہا جائے تو یہ علم و قرآن کی اہانت ہے، جس سے ایمان سلب ہونے کا اندیشہ ہے، اور اگر ان سے کسی ذاتی عداوت یا کسی دنیاوی معاملہ کی وجہ سے ان کی ذات پر لعن طعن کیا جائے تو اس میں علم کی اہانت کا پہلو تو نہیں ہوگا، لیکن بغض و عداوت اور بد گمانی خواہ کسی بھی مسلمان سے ہو گناہ ہے،  مؤمن کی صفات یہ ہیں کہ وہ لعن طعن کرنے والا، برا بھلا کہنے والا نہیں ہوتا۔

نیز  جب کسی عالمِ دین یا حافظِ قرآن کریم سے کوئی ذاتی عداوت ہوتی ہے، یا اس کے ساتھ کوئی بھی دنیاوی معاملہ ہو  تو اس کو اس بنیاد پر برا بھلا کہنے کی صورت میں معاملہ اس کی ذات کی طرف منسوب کیا جاتا ہے نہ کہ تمام علماء و حفاظ کی طرف، تاہم ہمارے معاشرے میں اس کا خیال نہیں رکھا جاتا، بلکہ ایک عالم کی کسی لغزش کو بنیاد بنا کر پورے علماء کے طبقے کو برا بھلا کہا جاتا ہے، اور ان کے واسطے علوم نبوت اور دین پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں، اور یہ نہایت خطر ناک اور نازک معاملہ ہے، ایسی بے ہودہ گوئی سے مکمل اجتناب کرنا لازم ہے،ہو سکتا ہے کہ ہماری زبان سے نکلنے والے چند الفاظ ایمان سے محروم ہونے کا باعث بن جائیں۔ 

البحر الرائق میں ہے:

"ومن ‌أبغض ‌عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر."

(كتاب السير، باب احكام المرتدين، ج:5، ص: 134، ط: دار الفكر)

لسان الحکام میں ہے:

"وفي النصاب من ابغض عالما بغير سبب ظاهر خيف عليه الكفر وفي نسخة الخسرواني رجل يجلس على مكان مرتفع ويسألون منه مسائل بطريق الاستهزاء وهم يضربونه بالوسائد ويضحكون يكفرون جميعا."

(فصل فيما يكون كفرا من المسلم و ما لايكون، ص:415، ط: البابي الحلبي)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"في النصاب من ‌أبغض ‌عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر، إذا قال لرجل مصلح: ديدا روى نزد من جنان است كه ديدار خوك يخاف عليه الكفر كذا في الخلاصة.

ويخاف عليه الكفر إذا شتم عالما، أو فقيها من غير سبب، ويكفر بقوله لعالم ذكر الحمار في است علمك يريد علم الدين كذا في البحر الرائق."

(كتاب السير، الباب السابع في احكام المرتدين، ج: 2، ص: 270، ط: بولاق مصر)

الاعلام بقواطع الاسلام میں ہے:

"بغض عالماً ‌من ‌غير ‌سبب ‌ظاهر، أو سمع الأذان أو القرآن الكريم فتكلم بكلام الدنيا، أو قال للقراء: هؤلاء آكلو الربا، أو قال لصالح: وجهه عندي كوجه الخنزير، أو قال: أريد المال سواء كان من حلال أو حرام، أو قال: أحب أيهما أسرع وصولاً، أو قال: ما نقص الله من عمر فلان زاده الله في عمرك، أو قال: من ليس له درهم لا يساوي درهماً، ففي هذه المسائل يخشى عليه الكفر انتهى.

ووجه خشية الكفر في كل هذه الصور أن كلاً منها يحتمله لكن احتمالاً بعيداً، فربما مال خاطره إلى ذلك الاحتمال فيكون حينئذ كافراً، وبهذا يعلم أن ما في معنى هذه الصور من كل ما يحتمل الكفر احتمالاً بعيداً يكون مثلها، فينبغي تجنب التلفظ بجميع ذلك."

(تعليق المؤلف علي احد كتب الاحناف، ص: 136، ط: دار التقوى)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144406101310

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں