بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

روایت علماء کرام کا حساب و کتاب بروز محشر پردے میں ہوگا کی تحقیق


سوال

 کیا ایسی کوئی حدیث ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ علماء کرام کا حساب و کتاب بروز محشر پردے میں ہوگا؟

جواب

 علماء کرام  کا حساب و کتاب بروز محشر پردے میں ہوگا ، یہ بات صراحت کے ساتھ تو ہمیں کہیں نہیں مل سکی ، البتہ درج ذیل  روايت میں ہےكه اللہ تعاليٰ قیامت کے روز اپنے بندوں کو اٹھائے گا پھر علماء کو ان سے الگ(جدا) کرکے فرمائے گا: اے گروهِ علماء! میں نے تمہیں اپنا علم اس لیے نہیں دیا تھا کہ تمہیں عذاب دوں، جاؤ !بس میں نے تمہیں بخش دیا  ،مذكوره روايت ميں ’’ پھر علماء کو ان سے الگ(جدا)کرے گا ‘‘۔ یہ الفاظ ایسے ہیں کہ ممکن ہے ان  سےعلماء کرام  کے بروز محشرحساب و کتاب  کو پردے میں ہونے کے مضمون  کواخذ کیا گیا ہو، حديث مع تخریج وحکم ملاحظه فرمائيں: 

عن أَبِي مُوْسَی الْأَشْعَرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم: يَبْعَثُ اﷲُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يُمَيِّزُ الْعُلَمَاءَ فَيَقُوْلُ: يَا مَعْشَرَ الْعُلَمَاءِ، إِنِّي لَمْ أَضَعْ فِيْکُمْ عِلْمِي وَأَنَا اُرِيْدُ أَنْ أُعَذِّبَکُمُ. اذْهَبُوْا فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ.

"حضرت ابو موسيٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعاليٰ قیامت کے روز اپنے بندوں کو اٹھائے گا پھر علماء کو ان سے الگ(جدا) کرکے فرمائے گا: اے علماء کی جماعت، میں نے تمہیں اپنا علم اس لیے نہیں دیا تھا کہ تمہیں عذاب دوں، جاؤ !بس میں نے تمہیں بخش دیا۔"

(المعجم الأوسط للطبراني  (المتوفى: 360هـ) (4/  302و303) برقم (4264)، ط/ دار الحرمين - القاهرة)

تخريجِ حديث:

جن روایات میں  ’’ پھر علماء کو ان سے الگ(جدا)کرے گا ‘‘ کا ذکر آیاهے  ، وہ درج ذيل ہیں: 

(1) الرُّوياني (المتوفى: 307هـ) في مسنده (1/ 353) برقم (542)، ط/ مؤسسة قرطبة - القاهرة.

(2) المعجم الأوسط للطبراني  (المتوفى: 360هـ) (4/ 302 و303) برقم (4264)، ط/ دار الحرمين - القاهرة. 

(3) أبو نعيم الأصبهاني (المتوفى : 430هـ) في معرفة الصحابة (4/ 1753) برقم (4444)، ط/ دار الوطن للنشر - الرياض. 

(4) ابن عبد البر (المتوفى: 463هـ) في جامع بيان العلم وفضله  باب جامع في فضل العلم، (1/ 215) برقم (232)، و(1/ 217) برقم (233)، ط/ دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية).

اور جن روایات میں  ’’ پھر علماء کو ان سے الگ(جدا)کرے گا ‘‘ کا ذکر نهيں   ، وہ درج ذيل ہیں: 

 (1) الطبراني (المتوفى: 360هـ) في الصغير (1/ 354) برقم (591)، ط/  المكتب الإسلامي , دار عمار - بيروت. 

(2) والبيهقي (المتوفى: 458هـ) في المدخل إلى السنن الكبرى (ص: 343) برقم (567)، ط/ دار الخلفاء للكتاب الإسلامي - الكويت.

حکمِ حديث:

(1)مذکورہ روایت طبرانی رحمہ اللہ کےہاں     صدقة بن عبد الله عن طلحة بن زيد کے طریق سے مروی ہوئی ہے ، اور اسی  طریق سے  ابو نُعَیم اور ابن عبد البر رحمہما اللہ کے ہاں بھی نقل ہوئی ہے، اسی طریق پر کلام فرماتے ہوئے طبرانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

"لم يرو هذا الحديث عن سعيد بن أبي هند إلا موسى بن عبيدة، ولا عن موسى إلا طلحة بن زيد، تفرّد به: صدقة بن عبد الله، ولا يروى عن أبي موسى إلا بهذا الإسناد".

يعني   اس حديث كوسعید بن ابی ہند سے  سوائے موسي بن عبید ہ کے کسی نے روايت نهيں کیا ،  اور  موسی بن عبید سے سوائے طلحۃ بن زیدکے کسی نے روايت نهيں کیا ،اور طلحۃ بن زید سے روایت کرنے میں صدقۃ بن عبد اللہ متفرد(اکیلے ) ہیں، حضرت ابو موسي اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی سوائے اس سند کے یہ روایت نقل نہیں ہوئی ۔ 

(المعجم الأوسط للطبراني  (المتوفى: 360هـ) (4/ 303) برقم (4264)، ط/ دار الحرمين - القاهرة)

(2)اور علامه بيهقي رحمه الله  نے مذكوره روايت کو   جملہ ’’ پھر علماء کو ان سے الگ(جدا)کرے گا ‘‘کے بغیر (۱)محمد بن شعيب بن شابور عن طلحة بن زيدکے طریق (۲) اور  صدقة بن عبد الله عن طلحة بن زيد کے طریق سے نقل فرمایاہے،اور پھر  اس پر کلام کرتے ہوئے فرمایا ہے: 

"قال أبو أحمد: هذا الحديث بهذا الإسناد باطل، وجعل الحمل فيه على طلحة بن زيد لأن الراوي عنه صدقة بن عبد الله، وإن كان ضعيفا فابن شابور ثقة وقد رواه عنه.

يعني ابو احمد  نے کہا کہ: یہ حدیث اس سند  کے ساتھ باطل ہے، اور   اس  میں انہوں نے طلحۃ بن زید پر حمل کیا ہے، کیونکہ ان سے روایت کرنے والے صدقۃ بن عبد اللہ ہیں ، جو کہ ضعیف ہیں ، لیکن ابن شابورتو  ثقہ ہیں، انہوں نے بھی طلحۃ بن زید سے ہی روایت کیا ہے ۔

(المدخل إلى السنن الكبرى (ص: 343) برقم (567)، ط/ دار الخلفاء للكتاب الإسلامي - الكويت)

(3)عللامہ ہیمثی رحمہ اللہ (المتوفي: 807ھ) اسی روایت سے متعلق فرماتے ہیں : 

"رواه الطبراني في الكبير، وفيه موسى بن عبيدة الربذي، وهو ضعيف جدا".

يعني  طبراني  نے اسے کبیر میں روایت کیا ہے، اس میں موسي بن عبیدہ  ربذی راوی ہے ، اور وہ تو بہت زیادہ کمزور راوی ہے۔

(مجمع الزوائد، باب في فضل العلماء ومجالستهم،  (1/ 126 و127) برقم (528 )، ط/ مكتبة القدسي، القاهرة)

ليكن رُوْياني رحمه الله نے اسي روايت كو      أسامة بن زيد عن سعيد بن أبي هندکے طریق سے بھی روایت   فرمایا ہے،   جو کہ  طریقِ غریب  ہے، کیونکہ ائمہ حدیث نے اسے    موسى بن عبيدة الربذي عن سعيد بن أبي هندكے  طریق سے ہی نقل فرمایا ہے۔

(مسند الرویانی (1/ 353) برقم (542)، ط/ مؤسسة قرطبة - القاهرة)

خلاصہ بحث یہ ہے کہ  یہ ’’ پھر علماء کو ان سے الگ(جدا)کرے گا ‘‘کے  الفاظ بعض  روایات میں ہیں اور بعض میں نہیں ، مزید  یہ کہ یہ  روایت شدیدضعیف بھی  ہے، لہذا اسےعلماء کرام  کےبروز محشر پردے میں حساب و کتاب  ہونے پر دلیل بناناتودرست نہ ہوگا، البتہ مذکورہ روایت کے مرکزی مضمون (اللہ رب العزت کا اہل علم کے ساتھ بروز محشر بوجہ علم عفو وردگزر کا معاملہ کرنا) کی تائید میں   امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ (المتوفى: 150ھ)سے ایک روایت  منقول ہے ،   جس کے سبب  مذکورہ روایت کے مجموعی مضمون کو ایک گونہ قوت ضرور ملتی ہے ، اور اسی قوت کے سبب  روایت کے مجموعی ومرکزی مضمون  کو بیان کرنے کی بھی گنجائش معلوم  ہوتی ہے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے   مروی روایت ملاحظہ فرمائیں : 

" عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يجمع الله تعالى العلماء يوم القيامة، فيقول: إني لم أجعل حكمتي في قلوبكم إلا وأنا أريد بكم الخير، اذهبوا إلى الجنة، فقد غفرت لكم على ما كان منكم. "

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ قیامت کے دن علماءکو جمع کرکے فرمائے گاکہ میں نے تمہارے دلوں میں اپںنی حکمت کی باتیں صرف اس لیے ڈالی تھیں کہ میں تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا تھا، جاوجنت میں داخل ہوجاو،میں نے تمہارے گناہوں کو جو تم پر بوجھ تھے معاف کردیا۔

(مسند أبي حنيفة برواية الحصكفي، كتاب العلم، (ص: 61 و62) برقم (36)، ط/ مكتبة البشرى باكستان، 1431ه)

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مذکورہ روایت کے متعلق  علامه آلوسي رحمہ اللہ  (المتوفى: 1270ھ) فرماتے ہیں کہ اہل علم کے بے شمار فضائل ہیں، لیکن یہ حدیث  زیاد امید دلانے والی ہے، نیزعارف الیاس کورانی رحمہ اللہ نے تو اس روایت کو  مسلل بالاوّلیۃ احادیث میں شمار کیا ہے ، ان کی تصریح ملاحظہ فرمائیں : 

"والدال على فضل العلم والعلماء أكثر من أن يحصى، وأرجى حديث عندي في فضلهم ما رواه الإمام أبو حنيفة في مسنده عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم: «يجمع الله العلماء يوم القيامة فيقول: إني لم أجعل حكمتي في قلوبكم إلا وأنا أريد بكم الخير اذهبوا إلى الجنة فقد غفرت لكم على ما كان منكم». وذكر العارف الياس الكوراني أنه أحد الأحاديث المسلسلة بالأولية. " 

(روح المعاني، سورة المجادلة، (14/ 223)، ط/ دار الكتب العلمية - بيروت)

 نيز عارف الياس كوراني رحمه الله سے مذکورہ روایت کی اجازت کا تذکرہ  اهل علم کے فضائل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صاحب ’’کشف الخفاء‘‘ علامہ عجلونی رحمہ اللہ  (المتوفى: 1162ھ) نے بھی اپنی شرح بخاری میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : 

"ومنها ما أجازنا به شيخنا المرحوم الملا الياس الكردي مما هو في ’’مسندأبي حنيفة‘‘عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم: «يجمع الله تعالى العلماء يوم القيامة فيقول: إني لم أجعل حكمتي في قلوبكم إلا وأنا أريد بكم الخير اذهبوا إلى الجنة فقد غفرت لكم على ما كان منكم. "

(شرح العجلوني على صحيح البخاري باسم الفيض الجاري بشرح صحيح الإمام البخاري، باب فضل  العلم، (2/ 328)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203201138

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں