بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

علماء دین کو بُرا بھلا کہنے والے سے قطع تعلقی کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص مولانا فضل الرحمان صاحب اور  مفتی تقی عثمانی صاحب کو بُرا بھلا کہتا ہو اور سمجھانے کے بعد بھی ایسی بات کرے تو اس بندے سے  رشتہ ختم کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

علم اللہ تعالیٰ  کی صفت ہے اور اللہ اپنی اس صفت سے اپنے پسندیدہ بندوں کو ہی نوازتے ہیں، تاکہ وہ نائبِ رسول بن کر لوگوں کو راہِ شریعت بتلائے، اور کسی سبب یا عداوت کے بغیر کسی عالمِ دین یا حافظِ قرآن کی اہا نت درحقیقت علمِ دین کی اہانت ہے ،  اور علمِ دین کی اہانت کو   کفر قراردیا گیا ہے، اور اگر کوئی شخص  کسی دنیاوی دشمنی یا بغض کی وجہ سے عالمِ دین کو برا بھلا کہتا ہےتو یہ گناہ گار ہے، حاصل یہ ہے کہ  عالمِ دین کی اہانت سے سلبِ ایمان کا اندیشہ ہے؛ لہذا اس سے مکمل اجتناب ضروری ہے، لہذا مذکورہ  شخص اگر سمجھانے کے باوجود نہیں سمجھتا اور یہ امید ہے کہ اگر اس سے قطع تعلق کر لیا جائے تو  وہ  اس توہین سے باز آجائے گا تو یہ یہ کرنے تک  اصلاح کی نیت سے اس سے قطع تعلقی کرنا جائز ہے۔

لسان الحكام میں ہے:

"وفي النصاب: من أبغض عالماً بغير سبب ظاهر خيف عليه الكفر. وفي نسخة الخسرواني: رجل يجلس على مكان مرتفع ويسألون منه مسائل بطريق الاستهزاء،

وهم يضربونه بالوسائد ويضحكون يكفرون جميعاً".

(ص: 415):

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے: 

" ومن أبغض عالماً من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر، ولو صغر الفقيه أو العلوي قاصداً الاستخفاف بالدين كفر، لا إن لم يقصده".(ج: 5، صفحہ: 134)

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:

"وفي البزازية: فالاستخفاف بالعلماء؛ لكونهم علماء استخفاف بالعلم، والعلم صفة الله تعالى منحه فضلاً على خيار عباده ليدلوا خلقه على شريعته نيابةً عن رسله، فاستخفافه بهذا يعلم أنه إلى من يعود، فإن افتخر سلطان عادل بأنه ظل الله تعالى على خلقه يقول العلماء بلطف الله اتصفنا بصفته بنفس العلم، فكيف إذا اقترن به العمل الملك عليك لولا عدلك، فأين المتصف بصفته من الذين إذا عدلوا لم يعدلوا عن ظله! والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر. ومن قال للعالم: عويلم أو لعلوي عليوي قاصداً به الاستخفاف كفر. ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها كفر، ومن بغض عالماً من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر، ولو شتم فم عالم فقيه أو علوي يكفر وتطلق امرأته ثلاثاً إجماعاً".

(كتاب السير، باب المرتد، ألفاظ الكفر أنواع، الرابع في الاستخفاف بالعلم، ج: ١، صفحه: ٦٩٥، ط: داراحياء التراث)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144402100301

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں