بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

اخوت نامی ادارے سے قرض لینا


سوال

میں اخوّت سے گھر بنانے کے لیے قرضہ لینا چاہتا ہوں دس لاکھ کا قرضہ ہے ایک لاکھ کُچھ ہزار روپے اوپر دینے ہوں ہے وہ کہتے ہیں یہ ہمارا خرچہ آتا ہے کیا یہ سود تو نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ  میں آپ نےسوال میں یہ بات ذکر کی ہے کہ مذکورہ ادارے سے  دس  لاکھ قرضہ  لینے  کی صورت میں   کچھ رقم   اضافی بھی دینے ہوں گے ، تو اس کا حکم یہ ہے کہ  اضافے کے ساتھ قرض کی  واپسی کی شرط  پر   مذکورہ ادارہ سے قرضہ لینا شرعاً جائز نہیں ہو گا  ۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: 

"(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحًا، أو أقرضه و شرط شرطًا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعًا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لايقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطةً في القرض."

(کتاب القرض،فصل فی شرائط رکن القرض (7 / 395)،دارالکتب العلمیۃ)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين: 

"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص".

(کتاب الحضر والاباحۃ ،فصل فی البیع، (6/ 403)،ط: سعید کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101059

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں