بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1443ھ 22 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اخوت نامی ادارے کے ساتھ شراکت داری کا معاملہ


سوال

"اخوت"  ایک ادارہ ہے  جو لوگوں کو بلا سود قرضے فراہم کرتا ہے،   جو پھر ان کو  قسطوں میں ادا کرنا پڑتا ہے،  جس کی کوئی اضافی چارج نہیں ہوتا، لیکن ان میں ایک قسم کا قرضہ ہے جو گھر بنانے کے لیے دیا جاتا ہے، ‏اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے‏ کہ ہماری جو زمین ہوتی  ہے  5 مرلہ کی (اس سے زیادہ نہیں) یہ  ادارہ ہمارے ساتھ  کاغذی کار روائی میں اس میں شریک کرتے  ہیں،  اور پھر یہ انجینئر بھیجتے ہیں سروے کے لیے،  پھر ہمیں 5 لاکھ روپے گھر کی تعمیر کے لیے دیتے ہیں اور ہمیں پھر ان پیسوں کی جو  یہ  5  لاکھ دیتے  ہیں،  قسط  ادا  کرنی  ہوتی  ہے،  تقریبًا  8  ہزار  روپے   اور  18 سو اُن کی شراکت داری کا کرایہ  اور انجنیئر اور  کاغذی کاروائی کا خرچہ تقریباً 10000 روپے قسط بنتا ہے ۔  پھر جب ان کے پیسے ختم ہو جاتے ہیں تو ان کی جو زمین کی شراکت داری ہوتی ہے،  وہ ہم کو عطیہ کی جاتی ہے۔آیا یہ اس طریقہ سے ان کے ساتھ معاملہ کرنا جائز ہے؟

جواب

سوال  میں قرض کی فراہمی کی جو صورت   ذکر کی گئی ہے ،  جس  کو شراکت داری کا عنوان دیا گیا ہے، قرض وصول کرنے کی  یہ صورت  اختیار کرنا جائز نہیں  اور  اس طرح  رقم  لے کر اس سے گھر کی  تعمیر کرنا بھی درست نہیں،  اگر اس کو شرکت بھی قرار دیا جائے تو   عام طور پر اس قسم کی شرکت، شرکتِ متناقصہ کی بنیاد اور اس کے اصولوں پر کی جا رہی ہوتی  ہے،  جس میں ایک وقت  میں ایک سے زائد عقد  کیے جا رہے ہوتے ہیں اور  بیک وقت ایک معاملہ میں ایک سے زائد عقود کرنا شرعاً درست نہیں ہے، لہذا اس معاملہ سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے۔

اخوت نامی ادارے سے قرض لینے  سے متعلق مزید  فتاویٰ دیکھنے کے لیے درج ذیل لنک کلک کریں:

اخوت نامی ادارے سے قرض لینا

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200029

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں