بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

عکاشہ اور عرشیان نام رکھنا کیسا ہے؟


سوال

محمد عکاشہ یا  محمد عرشیان نام رکھنا کیسا ہے ؟

جواب

’’عکاشہ‘‘ جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے، جوکہ بدری صحابہ میں سے ہیں۔ لہذا محمد عکاشہ نام رکھنا بہتر اور باعث برکت ہے۔  اور عرشیان   کے بجائے اگر  "عرشیاں" نون غنہ کے ساتھ ہو تو  یہ   فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کا معنیٰ ہے: عرش کا سامان اور مقرب  فرشتے۔ (لغاتِ فارسی، ص: 579)

یہ نام نہ رکھا جائے؛ کیوں کہ  فرشتوں کے ناموں پر نام  رکھنا مکروہ ہے اور عرشیاں بھی مقرب فرشتوں کو کہا جاتا ہے، بہتر ہے کہ اپنے بچوں کے نام انبیاء ،   صحابہ اور  صحابیات  کے ناموں پر رکھا جائے تاکہ یہ برکت کا باعث ہو۔

الإصابة في تمييز الصحابة میں ہے:

"في حديث ابن عباس في السبعين ألفا الذين يدخلون الجنة بغير حساب، فقال عكاشة: ادع اللَّه أن يجعلني منهم. قال: «أنت منهم» ، فقام آخر فقال:

سبقك بها عكّاشة".

(ج: 4، صفحہ: 440،ط:  دار الكتب العلمية - بيروت)

شرح السنة میں ہے:

  "ويكره التسمي بأسماء الملائكة مثل جبريل وميكائيل؛ لأن عمر ابن الخطاب رضي الله عنه قد كره ذلك، ولم يأتنا عن أحد من الصحابة ولا التابعين أنه سمى ولداً له باسم أحد منهم، هذا قول حميد بن زنجوية".

 (ج: 12، صفحہ: 336، ط:  المكتب الإسلامي - دمشق، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144312100777

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں