بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ادھار سونا خریدنا اور ذمہ میں واجب کی رقم کی زکاۃ


سوال

 ایک بندہ  نے  سونا لون  پر لیا تھا  14 تولہ،  اب  اس کی رقم کچھ باقی ہے،اندازے کے مطابق 3 لاکھ روپیہ، اب سوال یہ  ہے کہ اس پر زکوة  واجب  ہوگی؟ اگر  ہوگی تو 14 تولہ مکمل سونے  پر یا اس سے قرضہ کی بقیہ رقم 3 لاکھ کاٹ کر۔ باقی رقم پر زکوة  ہوگی؟

جواب

         واضح رہے کہ  روپے (کرنسی نوٹ) کے بدلے  سونا یا چاندی کی خریدو فروخت  کے وقت نقد معاملہ  کرنا شرعاً ضروری ہے،  ادھار کا معاملہ  کرنا ( خواہ کل رقم ادھار ہو یا بعض رقم ادھار  ہو ) شرعاً جائز نہیں ہے، اس لیے کہ کرنسی نوٹ ثمنِ اصطلاحی ہے، لہذا  جس طرح سونا چاندی کی خریدوفروخت میں ادھار ناجائز ہے، اسی طرح  روپے کے بدلے سونا چاندی کی خریدوفروخت میں  بھی ادھار کا معاملہ شرعاً جائز نہیں ہے۔

         لہذا صورتِ مسئولہ میں  اگر سونا لون پر لینے کا مطلب سونا ادھار پر خریدنا ہے تو خرید و فروخت کا مذکورہ معاملہ  شرعاً عقدِ صرف کا معاملہ تھا، اس میں عقدِ بیع کی مجلس میں مبیع اور ثمن  دونوں پر قبضہ ضروری  تھا، اس لیے  سوناخریدتے وقت جو رقم نقد ادا کرے گا، اس کے بدلے اتنے سونے کی خرید وفروخت  درست ہوجائے گی اور جس قدر قسطوں پر معاملہ ہوگا  اس میں چوں  کہ سونے کی قیمت پر  عقد  بیع کی مجلس میں  قبضہ نہیں ہوا  لہٰذا یہ معاملہ شرعًا جائز  نہیں ہوا،  اس معاملہ کو ختم کرنا شرعًا ضروری ہے، اس معاملہ کو ختم کرکے دوبارہ ہاتھ  در  ہاتھ  عقد کرنا ضروری ہے۔

باقی اگر سونا خریدار کے قبضہ میں ہے اور  فروخت کرنے والے کے  مزید تین لاکھ اس کے  ذمے ہیں تو   زکوٰۃ کے اندر  خریدی ہوئی چیز کی واجب الادا  قیمت منہا ہوتی ہے، لہذا یہ تین لاکھ  روپے زکوٰۃ کے حساب میں  سے منہا  ہوں گے،ان کو نکال کر باقی کی زکوٰۃ کا حساب کیا جائے گا۔ 

        فتاوی شامی میں ہے:

"(ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحًا على الصحيح (إن اتحد جنسًا وإن) وصلية (اختلفا جودةً وصياغةً) لما مر في الربا."

(5/257، 258، باب الصرف، کتاب البیوع، ط: سعید)          

فتح القدیر  میں ہے:

"(ولا بد من قبض العوضين قبل الافتراق) لما روينا، ولقول عمر -رضي الله عنه-: وإن استنظرك أن يدخل بيته فلاتنظره، ولأنه لا بد من قبض أحدهما ليخرج العقد عن الكالئ بالكالئ ثم لا بد من قبض الآخر تحقيقًا للمساواة فلايتحقق الربا، ولأن أحدهما ليس بأولى من الآخر فوجب قبضهما سواء (قوله: ولا بد من قبض العوضين قبل الافتراق) بإجماع الفقهاء. وفي فوائد القدوري: المراد بالقبض هنا القبض بالبراجم لا بالتخلية يريد باليد، وذكرنا آنفا أن المختار أن هذا القبض شرط البقاء على الصحة لا شرط ابتداء الصحة لظاهر قوله: فإذا افترقا بطل العقد، وإنما يبطل بعد وجوده وهو الأصح. وثمرة الخلاف فيما إذا ظهر الفساد فيما هو صرف يفسد فيما ليس صرفًا عند أبي حنيفة -رحمه الله -، ولايفسد على القول الأصح."

(6/260، باب الصرف، ط: رشیدیة) 

فقط والله  اعلم


فتوی نمبر : 144108201334

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں