بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ادھار رقم قسط وار دینے پر نفع لینا


سوال

عبداللہ نے زید سے بات کی  کہ میرے پاس اب پیسے نہیں ہیں،   تم میرے لیے  سیمنٹ خرید لو،  بعد میں رقم ادا کر لوں گا،  لیکن زید نے یہ طے کیا کہ مجھے قسطوں میں رقم ادا کرنا، لیکن میں  نے جو پچاس ہزار کا لیا ہے ، اس کے مجھے ساٹھ ہزار دو گے،    دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اب تک وہ سیمنٹ اس کی ملکیت میں نہیں آئی ہے اور وہ پہلے سے یہ قسطوں کی  صورت طے کرتے ہیں تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زید کا عبد اللہ کےلئے  سیمنٹ خریدنا اور اس کی قیمت قسطوں میں زائد وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، یہ قرض پر نفع کی صورت ہے، جو کہ شرعاً سود ہے، اور سود لینا اور دینا دونوں ناجائز ، حرام اور کبیرہ گناہ ہے، لہذا اس طرح معاملہ کرنے  سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔

اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زید پہلےاپنے لئے   پچاس ہزار کا سیمنٹ خرید کر اپنے  قبضہ  میں لے لے، اس کے بعد  عبد اللہ سے سودا کرے اور عبداللہ  کو  ادھار پر    مثلاً ساٹھ ہزار میں فروخت کردے،اس میں ادھار کی مدت ، اور ماہانہ قسط بھی متعین کرلے اور کسی مہینہ قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہوجانے پر جرمانہ کی شرط بھی نہ رکھے، تو یہ صورت جائز ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.

و في الرد :  (قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر."

(5/166، مطلب کل قرض جر نفعا، ط: سعید)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد."

(13/ 8 ، كتاب البيوع ،باب البيوع الفاسدة،ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100988

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں