بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ادھار پر گیس مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر فروخت کرنا


سوال

 میں گیس کے کاروبار سے منسلک ہوں،  ہمارے ایک دوست  پر امپوٹر کی دس لاکھ روپے گیس کا قرضہ ہے ، قرضے کی وجہ سے امپوٹر  اس دوست سے چالیس روپے پر سلینڈر مارکیٹ ریٹ سے زیادہ لے رہاہے۔ وہ دوست مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ مجھے دس لاکھ روپے  کی گیس ادھار میں  دیں (تاکہ میں امپوٹرکا قرضہ چکا سکوں) اور مجھ سے بیس روپے مارکیٹ ریٹ سے زیادہ لے لیں۔ کیا اس دوست سے یہ کمائی میرے  لیے حلال ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں   امپورٹر کا مذکورہ شخص  (آپ کے دوست)  کو دس لاکھ روپے  گیس  کا قرض ذمہ میں ہونے کی وجہ سے مارکیٹ ریٹ سے مہنگی گیس بیچنا ناجائز  اور حرام ہے، اس لیے کہ امپوٹر یہ نفع   قرض کی وجہ  سے وصول کررہا ہے، اور قرض  کی وجہ سے نفع لینا جائز نہیں ہے۔

باقی   چوں  کہ  ہر شخص کو اپنی ملکیت  کی چیز نقد یا ادھار  اور   کم  یا  زیادہ قیمت پر بیچنا جائز ہوتا ہے، اس لیے اگر  آپ  مذکورہ شخص کو  گیس مارکیٹ ریٹ سے بیس روپے  زیادہ پر ادھار فروخت کرتے ہیں اور سودے کے وقت ہی یہ قیمت طے ہوجاتی   ہے، اسی طرح  ادھار کی مدت  اور  رقم کی ادائیگی کی مدت مقرر ہوجاتی ہے تو اس  طرح سودا کرنا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الخانية: رجل استقرض دراهم وأسكن المقرض في داره، قالوا: يجب أجر المثل على المقرض؛ لأن المستقرض إنما أسكنه في داره عوضًا عن منفعة القرض لا مجانًا."

(6/63،مطلب أسكن المقرض في داره يجب أجر المثل ، کتاب الاجارۃ، ط؛سعید)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

’’وإذا عقد العقد علی أنه إلی أجل بکذا وبالنقد بکذا أو (قال:) إلی شهر بکذا وإلی شهرین بکذا فهو فاسد؛ لأنه لم یعامله علی ثمن معلوم ولنهي النبي صلي الله عليه وسلم یوجب شرطین في بیع، وهذا هو تفسیر الشرطین في البیع، ومطلق النهي یوجب الفساد في العقد الشرعیة، وهذا إذا افترقا علی هذا ... فإن کان یتراضیان بینهما ولم یتفرقا حتی قاطعه علی ثمن معلوم وأتما العقدَ فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد الخ‘‘.

(المبسوط للسرخسي،ج:۸،ص:۱۳)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200624

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں