بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

ادھار خرید کر نقد فروخت کرنا


سوال

اگر کوئی بندہ قسطوں پر موٹر سائیکل خریدے اور فوراً کسی دوسرے بندے کو موٹر سائیکل اصل قیمت پر بیچ کر نقد رقم حاصل کرے اور بعد میں قسطیں جمع کرتا رہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

قسطوں پر کوئی چیز خرید کر آگے کسی تیسرے کو  نقد پرفروخت کرنے میں تو شرعا کوئی حرج نہیں ہے ،البتہ آج کل اس کی جو صورت رائج ہے کہ کسی کو قرض کی ضرورت ہو اور وہ قرض لینے آئے اور اسے قرض کی جگہ کوئی اور چیز دی جائے اور پھر وہی چیز اس سے دوبارہ خرید لی جائے، یا وہ تیسرے فرد کو بیچے اور تیسرا فرد پھر پہلے فرد کو بیچ دے،یا قرض دینے کے بجائے مہنگے داموں قسطوں پر کوئی چیز دے دے تاکہ وہ بازار میں اس کو نقد فروخت کردے،تو اسے شریعت کی اصطلاح میں ’’بیعِ عینہ‘‘ کہتے ہیں جو کہ مکروہ اور قابل ترک ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے عقد کو رسوائی اور ذلت کا سبب قرار دیا ہے۔لیکن صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص  کسی سے قرض طلب کرنے کے بجائے از خود  کسی سے کوئی چیز موٹر سائیکل  وغیرہ قسطوں پر مہنگے داموں پر  خرید کر  اسے بازار میں کسی اور کے ہاتھ فروخت کرکےنقد پیسے حاصل کر کے اپنی ضرورت پوری کرنا چاہتا ہے تو یہ جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: أمر كفيله ببيع العينة) بكسر العين المهملة وهي السلف، يقال باعه بعينة: أي نسيئة مغرب.:

وفي المصباح وقيل لهذا البيع عينة؛ لأن مشتري السلعة إلى أجل يأخذ بدلها عينا أي نقدا حاضرا اهـ، أي قال الأصيل للكفيل اشتر من الناس نوعا من الأقمشة ثم بعه فما ربحه البائع منك وخسرته أنت فعلي فيأتي إلى تاجر فيطلب منه القرض ويطلب التاجر منه الربح ويخاف من الربا فيبيعه التاجر ثوبا يساوي عشرة مثلا بخمسة عشر نسيئة فيبيعه هو في السوق بعشرة فيحصل له العشرة ويجب عليه للبائع خمسة عشر إلى أجل."

(کتاب الکفالۃ،مطلب فی بیع العینۃ،ج5،ص325،ط؛سعید)

وفيه ايضاً:

"ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة اهـ، وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود."

(کتاب الکفالۃ،مطلب فی بیع العینۃ،ج5،ص326،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101367

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں