بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ادھار کی صورت میں نقد کی بنسبت زیادہ قیمت وصول کرنا


سوال

ایک شخص کھاد کی بوریاں خریدتا ہے، اور اس کھاد کی فی بوری کی نقد  قیمت ستاسی  سو روپے(8700) ہے، لیکن جب مُزارع اس سے وہ کھاد کی بوری ادھار کی صورت میں خریدتا  ہے، تو وہ ایک بوری کے  ستانوے سو روپے (9700)لگاتا ہے، اس طرح ادھار کی صورت میں فی بوری 1000 روپے زیادہ بیچنا اور لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کھاد کی خریدوفروخت کرنے والے مذکورہ شخص کا نقد کی صورت میں  8700 روپے فی بوری اور ادھار پرفروخت کرنے کی صورت میں 9700 روپے میں فروخت کرنا شرعاً جائز ہے،نقد معاملہ کی بنسبت ادھار والے معاملہ میں کھاد کی فی بوری پر 1000 روپے زائدوصول کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے،بشرطیکہ بوری کی  قیمت متعین ہو اور مقررہ وقت سے تاخیر کی صورت میں جرمانہ وغیرہ کے نام سے مقررہ رقم سے زائد کسی قسم کی اضافی رقم وصول نہ کی جائے۔ 

بدائع الصنائع میں ہے:

"إذا ‌قال: ‌بعتك ‌هذا ‌العبد ‌بألف درهم إلى سنة أو بألف وخمسمائة إلى سنتين؛ لأن الثمن مجهول....فإذا علم ورضي به جاز البيع؛ لأن المانع من الجواز هو الجهالة عند العقد وقد زالت في المجلس وله حكم حالة العقد فصار كأنه كان معلوما عند العقد وإن لم يعلم به حتى إذا افترقا تقرر الفساد."

(كتاب البيوع، فصل في شروط الصحه، ج:5، ص:158، ط: دار الكتب العلمية)

دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما أو شهرا أو سنة أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع.

يعني أن التأجيل إذا كان بالأيام أو الشهور أو السنين أو بطريق آخر فهو صحيح ما دام الأجل معلوما (بحر) وعلى هذا إذا باع إنسان من آخر متاعا وهو صحيح وسلمه إليه ثم توفي فليس لورثته أن يأخذوا الثمن من المشتري قبل حلول الأجل؛ لأن الأجل الذي هو حق المدين لا يبطل بوفاة الدائن علي أفندي وهذه المادة فرع للمادة."

(الكتاب الأول في البيوع، الفصل الثاني في بيان المسائل المتعلقة بالبيع بالنسيئة والتأجيل  (المادة ٢٤٦) كون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط، ج:1، ص:228، ط:دارالكتب العلمية)

فقط و اللہ أعلم


فتوی نمبر : 144503100839

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں