بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1442ھ 24 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

ابلے ہوے پانی میں سالم مرغی کو ڈالنے کا حکم


سوال

مرغی ذبح کرکےانتڑیاں نکالے بغیراگرابلے ہوئے پانی میں ڈالی جائےپرصاف کرنے کی غرض سےتوکیا مرغی کاگوشت مکروہ ہوجاتاہے، کیونکہ پانی ابلاہوا ہوتاہےاورنجاست مرغی کےاندرموجودہوتی ہے؟

جواب

اگرپانی اس قدرگرم ہےکہ اس میں کوئی شخص ہاتھ نہ ڈال سکتاہوتواس صورت میں مرغی کے اندرکی نجاست مرغی کے گوشت میں سرایت کرجانےکا غالب امکان ہوتوایسی مرغی کا استعمال ناجائز ہے لیکن اگرپانی معمولی گرم ہے، ماہرین کےمطابق تقریباً 52 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہواوردوڈھائی منٹ سے زیادہ مرغی کو اس میں نہ رکھاجاتاہوتواس کی اجازت ہےایسی صورت میں اس مرغی کااستعمال بلاکراہت جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200180

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں