بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

یوپیسہ ایپ والوں کی طرف سے پیکج لگانے والوں کو کیش بیک دینے اور ان کے استعمال کرنے کاحکم


سوال

ایزی پیسہ ایپلیکشن(Upaisaیو پیسہ ایپلیکیشن) کی طرح ہی ایک ایپلیکشن ہے، جو یوفون کمپنی کی ایپ ہے، یو پیسہ والے اپنی ایپلیکیشن سے کسی بھی نمبر پر موبائل لوڈ کرنے یا پیکج لگانے پر10 فیصد کیش بیک دیتے ہیں، جو کہ یو پیسہ اکاؤنٹ میں رقم کی طرح منتقل نہیں کرتے ،بلکہ یو پیسہ استعمال کرنے والے کو اسی کے نمبر پر بیلنس کے طور پر دیتے ہیں ،مثلا :1000 روپے کا پیکج خریدنے پر اس نمبر پر 100 روپے کا لوڈ کیش بیک دیں گے ،جس کی میعاد 7 دن ہو گی، اس دوران آپ اس بیلنس سے کال وغیرہ یا کوئی پیکج وغیرہ بھی لگا سکتے ہیں، سوال ہے کہ آیا اس طرح کا کیش بیک جو یو پیسہ والے دیتے ہیں، استعمال کرنا شرعی حیثیت سے درست ہو گا یا یہ سود کے زمرے میں آئے گا؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرکسٹمرزکومحض خریداری کی صورت میں مذکورہ ایپ کی طرف سے کیش بیک ملتا ہے، تویہ ایپ والوں کی طرف سے ترغیبی انعام ہے، جس کا استعمال کرنا جائز ہے، البتہ اگر مذکورہ سہولت حاصل کرنے کےلیے  کسٹمر پرایپ والوں کے پاس پیسہ رکھنا شرط قرار دیا گیاہو تو ایسی صورت میں مذکورہ سہولت سے استفادہ کرنا سودکے زمرے میں آئےگا،لہٰذا ایسی صورت میں مذکورہ ایپ سے ملنے والے کیش بیک سے استفادہ کرنا جائز نہیں ہے۔

البحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

''(قوله كتاب الهبة)هي لغة التفضل على الغير بما ينفعه ولو غير مال واصطلاحا ما أشار إليه المصنف (قوله هي تمليك العين بلا عوض).''

(کتاب الهبۃ، ج: 7 ص: 284 ط: دارالکتاب الإسلامي)

رد المحتار میں ہے:

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن۔۔۔(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه."

(کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ، مطلب کل قرض جر نفعا، ج: 5 ص: 166 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100105

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں