بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

tvs اسکین الٹرساؤنڈسےغسل کرنے کاحکم


سوال

tvs اسکین جو عورت کی شرمگاہ کے اندرسے الٹرساؤنڈکیاجاتاہےاس سے غسل فرض یاواجب ہوتاہےیانہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  الٹرساؤنڈ کا نفسِ آلہ شرمگاہ میں داخل ہونے کی وجہ سے عورت پر غسل واجب یافرض نہیں ہوتاہے،لیکن اگر آلہ داخل ہونے کی وجہ سےعورت کو انزال ہوجائے اور شہوت کے ساتھ منی خارج ہوجائے تو ایسی صورت میں غسل واجب ہوگا، البتہ الٹرساؤنڈ کاآلہ داخل ہونے کی صورت میں واپس نکالنے کی صورت میں شرمگاہ کی داخلی رطوبت (جو کہ نجس اور ناقضِ وضوء ہے)آلہ کے ساتھ لگ کر باہر نکلتی ہے، لہذا  وضوہرحال میں ٹوٹ جائےگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وكذا لو أدخل أصبعه في دبره ولم يغيبها، فإن غيبها أو أدخلها عند الاستنجاء بطل وضوءه وصومه۔۔۔(قوله: بطل وضوءه وصومه) أي في المسألتين، لكن بطلان الصوم في الأولى خلاف المختار إلا أن يفرق بين مجرد ‌إدخال ‌الأصبع وتغيبها ويحتاج إلى نقل صريح، فإن ما ذكروه في الصوم مطلق كما علمت، ولهذا قال ط: إن في كلامه لفا ونشرا مرتبا، فبطلان الوضوء يرجع إلى قوله ولو غيبها، وقوله: وصومه يرجع إلى قوله أو أدخلها عند الاستنجاء.قلت: لكن لو أدخلها عند الاستنجاء ينتقض وضوءه أيضا ۔۔۔ والذي يظهر هو النقض لخروج البلة معها."

(کتاب لطہارت ،سنن الوضوء،ج:1،ص:149،ط:سعید)

النتف فی الفتاوی میں ہے:

"فالفريضة على اربعة أوجه:احدها الغسل من الجنابة،والثاني الغسل من الحيض،والثالث الغسل من النفاس،والرابع غسل المرأة التي نسيت ايام حيضها او اوقات حيضها على الاختلاف فأما الغسل من الحيض والنفاس وغسل الآيسة فنذكره في كتاب الحيض ان شاء الله تعالى وأما الغسل من الجنابة فأنه يجب بمعنيين:احدهما الانزال والثاني الادخال."

(کتاب الطہارت، باب الغسل،اوجہ الغسل،ج:(مؤسسة الرسالة - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101078

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں