بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ٹی وی پر براہِ راست کرکٹ یا خبریں دیکھنا


سوال

ٹی وی میں جو براہِ  راست  خبریں،  میچ آتے ہیں، ان کے دیکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

ٹی وی چیلنلز پر جو پروگرام براہِ راست دکھائے جاتے ہیں ان کو دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں جاندار  کی تصویریں آتی ہیں اور جاندار کی تصویر کشی اور تصویر کو  دیکھنا دونوں ناجائز ہے، اس لیے خواہ  براہِ راست خبریں ہوں،  کرکٹ  میچ ہو  یا اس کے علاوہ کچھ اور، (بہرحال وہ ریکارڈ ہونے کے بعد ہی دکھایا جاتاہے، لہٰذا) اگر وہ جاندار کی تصاویر یا میوزک پر مشتمل ہو گا  تو اس کو دیکھنا جائز نہیں ہو گا، علاوہ ازیں اس میں مزید ایک خرابی غیر محارم کو دیکھنا بھی ہے۔

یہ ہی حکم موبائل اور  لیپ ٹاپ  پر خبریں اور کرکٹ میچ دیکھنے کا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201519

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں