بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ٹی وی (TV) کے سامنے نماز پڑھنا


سوال

tv کے سامنے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

ٹی وی رکھنا اور دیکھنا ناجائز ہے، اگر کمرے میں  ٹی وی چل رہا ہے تو اس  کمرے میں نماز مکروہ ہوگی، اور اگر  ٹی وی  بند ہو تو اس کمرے میں نماز ادا ہو جائے گی، تاہم اگر یہ کمرہ لہو لعب  اور  اسی گناہ کے کام لے لیے مخصوص ہو تو  گناہ کے ان کاموں کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں بھی نماز پڑھنا کراہت سے خالی نہیں ہے۔ گھر میں ایسا کمرہ ہو تو اسے معاصی اور آلاتِ معصیت سے پاک کرکے اس میں نماز اور یادِ خداوندی کا اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ شیطانی اثرات اور بے برکتی سے نجات ملے۔

الفتاوى الهندية (1/ 107):
"ويكره أن يصلي وبين يديه أو فوق رأسه أو على يمينه أو على يساره أو في ثوبه تصاوير، وفي البساط روايتان، والصحيح أنه لايكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير، وهذا إذا كانت الصورة كبيرةً تبدو للناظر من غير تكلف، كذا في فتاوى قاضي خان. ولو كانت صغيرةً بحيث لاتبدو للناظر إلا بتأمل لايكره، وإن قطع الرأس فلا بأس به".

الفقه الإسلامي وأدلته (2/ 155):
"قال النووي في المجموع: وتكره الصلاة في مأوى الشياطين كالخمارة وموضع المكس ونحو ذلك من المعاصي الفاحشة". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110201413

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں